جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر میں روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات پر کھل کر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں ایران کی تشخیص حقیقت سے زیادہ قریب ہے، جبکہ واشنگٹن صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
اولیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی پیغامات اس نازک مرحلے پر کم ذمے دارانہ محسوس ہوتے ہیں۔ روسی سفیر اپنے بے باک اور واضح بیانات کے باعث بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ایک جانی پہچانی آواز بن چکے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط، یورینیئم افزودگی کی حدود اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور مذاکرات ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں۔
روس، جو ایران کا تاریخی اتحادی اور جوہری معاملات میں ثالثی کردار کا دعویدار رہا ہے، اس بیان کے ذریعے عملاً تہران کے موقف کی تائید کرتے ہوئے واشنگٹن پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مذاکرات کاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق روس کا یہ اعلانیہ موقف مذاکرات کی سمت اور فریقین کی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

