واشنگٹن / تہران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، تاہم کوئی بھی معاہدہ مکمل طور پر امریکی شرائط پر ہی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور افزودہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ضمانت دے گا۔
ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: "یا تو ہم اچھا معاہدہ کر لیں گے، یا میں انہیں جہنم میں پہنچا دوں گا۔” انہوں نے خبردار کیا کہ ناکامی کی صورت میں ایران کو ایسی شدید ضرب لگے گی جو کسی ملک کو آج تک نہیں لگی۔
دوسری طرف ایران نے امریکہ کے ساتھ 14 نکاتی فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی تصدیق کی، لیکن بڑے اختلافات باقی ہونے کا بھی اشارہ دیا۔ ایران، امریکہ اور ثالث ملک پاکستان تینوں نے تقریباً تین ماہ سے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔
تاہم خود ٹرمپ نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ معاہدہ طے پانے کے امکانات صرف پچاس فیصد ہیں۔
پس منظر: امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت 40 سے زائد اعلیٰ حکام شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ایران نے امریکی اڈوں، اسرائیل اور آبنائے ہرمز کو نشانہ بنایا — جس سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔

