اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی آئی جی جواد طارق کو قید و جرمانے کی سزا سنا دی


اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کو مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے پولیس کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سزا سنائی۔ معاملہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے خلاف 4 اکتوبر 2024 کے احتجاج کے سلسلے میں تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے سے متعلق ہے، جس کا تفتیشی چالان پولیس کی جانب سے طویل عرصے سے جمع نہیں کروایا جا رہا تھا۔ عدالت کی جانب سے متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے، تاہم نہ تو رپورٹ پیش کی گئی اور نہ ہی ڈی آئی جی جواد طارق عدالت میں حاضر ہوئے۔
عدالت نے سزا زبانی سنائی جبکہ تفصیلی تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی جواد طارق اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کی تھری ایم پی او نظر بندی کیس میں ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کو 6 ماہ اور سابق ایس ایس پی ملک جمیل ظفر کو 4 ماہ قید کی سزا سنا چکی ہے، تاہم بعد ازاں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ سزائیں ختم کر دی تھیں۔

متعلقہ پوسٹ