خلیج تعاون کونسل (GCC) کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں سرگرم اس کی پراکسی تنظیموں کے مسئلے سے نمٹنا ضروری ہے۔
وزرائے خارجہ کے مشترکہ مؤقف کے مطابق خطے میں کشیدگی کے خاتمے، بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جامع سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔
خلیجی ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
جی سی سی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ علاقائی سلامتی سے متعلق تمام بنیادی مسائل کو حل کیا جائے، جن میں میزائل پروگرام، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اور خودمختار ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت جیسے امور شامل ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مربوط اور متوازن کردار ادا کرے۔

