غزہ — غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جمعرات کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے۔ اس طویل عرصے کے دوران غزہ غیر معمولی انسانی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت اور مسلسل فوجی کشیدگی کا مرکز بنا رہا۔
اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور تقریباً ایک لاکھ 73 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ تعمیر نو کی لاگت تقریباً 70 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اگرچہ 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہ ہو سکیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 70 فیصد حصے پر اپنا فوجی کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا، جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی محدود علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اہم ٹائم لائن — 2023ء
7 اکتوبر: حماس نے "آپریشن الاقصیٰ” کے نام سے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور متعدد افراد یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل نے "آئرن سوورڈز” کے نام سے فوجی کارروائی شروع کرتے ہوئے غزہ کا مکمل محاصرہ کر دیا۔
13 اکتوبر: اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا۔
27 اکتوبر: اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں زمینی کارروائی شروع کی، جو بعد میں وسطی اور جنوبی علاقوں تک پھیل گئی۔
نومبر: نیٹزارم کوریڈور قائم کیا گیا جس کے ذریعے شمالی اور جنوبی غزہ کو الگ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی نے شمالی غزہ میں قحط کے خدشات سے خبردار کیا۔
24 نومبر: قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور محدود انسانی امداد کی فراہمی شروع ہوئی۔
3 دسمبر: خان یونس میں اسرائیلی زمینی کارروائی کا آغاز ہوا۔
29 دسمبر: جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا، جس میں بعد ازاں متعدد ممالک شامل ہوئے۔

