دوحہ مذاکرات: ایران کو ۳؍ ارب ڈالر دینے پر عبوری اتفاق

qataaa d


دوحہ، قطر — ایران کو دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں پہلی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران نے منجمد اثاثوں میں سے ۳؍ ارب ڈالر کے فنڈز جاری کرنے اور براہِ راست رابطے کے لیے ہاٹ لائن قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
نائب ایرانی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالثوں سے ہونے والی گفتگو میں مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں پر بات چیت ہوئی اور ایک مفاہمتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ منجمد فنڈز کا ایک حصہ ایران میں اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ بدھ کے روز دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مثبت پیش رفت ہوئی۔ تاہم فریقین نے آئندہ دور کی بات چیت ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے قطری امیر سے ملاقات کی، جس میں امریکہ ایران مذاکرات کے علاوہ لبنان جنگ بندی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔
دریں اثناء ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے واضح کیا کہ ملک کا میزائل اور ڈرون پروگرام قومی سلامتی کی "ریڈ لائن” ہے اور کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ