اسرائیلی پارلیمنٹ: اذان پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرنے والا بل ابتدائی مرحلے میں منظور

az 020726 d


تل ابیب — اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی نشریات محدود کرنے کے مقصد سے پیش کیے گئے ایک بل کو ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز 120 رکنی کنیسٹ میں بل کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 36 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ بل قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی جماعت "اوتزما یہودیت” نے پیش کیا، جسے اپوزیشن لیڈر اوِگڈور لیبرمین کی جماعت "یسرائیل بیتینو” کی حمایت بھی حاصل رہی۔ مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر یا صوتی نظام نصب کرنے یا استعمال کرنے کے لیے حکام سے پیشگی اجازت لازمی قرار دی جائے گی۔
بل کے حامی اسے شور کے ضابطے سے متعلق قانون قرار دے رہے ہیں، خصوصاً صبح سویرے بلند آواز میں ہونے والی نشریات کے حوالے سے، جبکہ ناقدین اور مسلم نمائندوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام دراصل مذہبی آزادی اور اسلامی شعائر کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ناقدین اسے "مؤذن بل” کا نام بھی دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسی نوعیت کا ایک بل 2016ء میں نیتن یاہو کے دورِ حکومت میں بھی پیش کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اسے قانون کی شکل نہیں دی جا سکی تھی کیونکہ ناقدین نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہی شور کا معیار اپنایا گیا تو اس کا اطلاق یہودی شبت کے سائرن پر بھی ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی قانون سازی کے عمل کے تحت بل کو حتمی منظوری کے لیے مزید تین پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا، اس لیے فی الحال یہ نافذ العمل قانون نہیں بنا۔ بل کی ابتدائی منظوری کے بعد اسرائیل میں مذہبی آزادی اور اقلیتی برادریوں کے حقوق سے متعلق بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔

متعلقہ پوسٹ