ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے برطانیہ کے ۱۲؍ سالہ آٹسٹک بچے جوشوا ہیرس سے صدارتی دولما باغچہ دفتر میں ملاقات کی۔ جوشوا نے "کیک ناٹ ہیٹ” کے نام سے ایک مہم چلا رکھی ہے جس کے تحت وہ مساجد کے باہر گھر کا بنایا ہوا کیک تقسیم کرکے اسلامو فوبیا کے خلاف محبت اور رواداری کا پیغام پھیلا رہا ہے۔
جوشوا نے یہ مہم برطانیہ میں مسلم مخالف نفرت انگیز واقعات کے سلسلے کے بعد شروع کی تھی۔ اس کا مقصد مذہبی مقامات پر سادہ احسان اور مشترکہ مہمان نوازی کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور تعصب کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کوشش نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی اور مختلف برطانوی برادریوں کے درمیان ثقافتی فاصلے کم کرنے میں مدد دی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب ترکی یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے خلاف سفارتی کوششوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ انقرہ بارہا یورپی دارالحکومتوں سے مطالبہ کرچکا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور نفرت انگیز جرائم کے تدارک کے لیے ٹھوس قانونی اقدامات کریں۔

