نیو یارک
اقوامِ متحدہ کے نمائندے اور ہنگامی امدادی رابطہ کار رامز الاکباروف نے بتایا ہے کہ کسی مضبوط اور پائیدار سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیر نو ممکن نہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی بگڑی ہوئی حالت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دیگر حصوں میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے اور اگر فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو وسیع تر تصادم کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
الاکباروف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے مشاہدات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، مگر تعمیر نو کی رفتار نہایت سست ہے اور بڑے پیمانے پر درکار تعمیراتی سامان اور دیگر ضروریات کی فراہمی پر پابندیوں نے پیشرفت کو روک رکھا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے اور فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی توسیع نے شہری آبادی پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث مقامی افراد اب غزہ کے تقریباً ایک تہائی حصے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ رامز الاکباروف نے خبردار کیا کہ جب تک غزہ تباہ حال رہے گا، مغربی کنارے میں تشدد بڑھتا رہے گا، فلسطینی ادارے منقسم رہیں گے اور مجموعی سلامتی صورتحال بگڑتی رہے گی، تب تک کوئی سیاسی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں تشدد کے باعث شہری ہلاکتیں، بے دخلی اور املاک کا نقصان بڑھا ہے، اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، فلسطینی مقامات اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا، اور الاکباروف نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے، فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور تشدد کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
الاکباروف نے یہ بھی خبردار کیا کہ فلسطینی محصولات کے روکے جانے سے فلسطینی اتھارٹی کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی خدمات متاثر ہو رہی ہیں اور ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ 28 نومبر کو مجوزہ فلسطینی قانون ساز انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول یقینی بنایا جائے تاکہ تمام اہل فلسطینی ووٹر آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔

