نیپیداؤ —
میانمار کی پارلیمنٹ نے آن لائن فراڈ، کرپٹو اسکیموں اور انسانی اسمگلنگ سے منسلک سائبر جرائم کے خلاف ایک جامع اینٹی آن لائن اسکیم قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت سنگین جرائم میں ملوث افراد کو 10 سال قید، عمر قید یا بعض صورتوں میں سزائے موت تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔
قانون کو پیڈاؤنگسو ہلٹاؤ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور سرکاری اخبار کے مطابق اسپیکر نے دونوں ایوانوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد بل پاس ہونے کا اعلان کیا۔ حکومت کے مطابق قانون کا مقصد ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی سائبر فراڈ صنعت کو توڑنا اور متاثرین کو فوری تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اہم شقیں اور اثرات:
فوری اقدامات: متاثرین کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن اور آن لائن شکایتی نظام قائم کیا جائے گا؛ متاثرہ شخص کو واقعے کے 24 گھنٹوں میں شکایت درج کروانی ہوگی، جس پر پولیس فوری طور پر FIR درج کرے گی۔
بینکنگ اور مانیٹرنگ اختیارات: تصدیق کے بعد مشتبہ بینک اکاؤنٹس صرف 15 منٹ میں منجمد کیے جا سکیں گے، اور ابتدائی طور پر 72 گھنٹوں تک معطّل رکھا جا سکے گا تاکہ تحقیقات ہو سکیں۔
حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ: بینکوں، موبائل پیمنٹ فراہم کنندگان، ٹیلی کام کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو ایک مشترکہ مرکزی ڈیٹا بیس کے ذریعے اکاؤنٹس، سم کارڈز، آئی پی ایڈریسز، فون ریکارڈز اور مالی لین دین کی معلومات حقیقی وقت میں شیئر کرنی ہوں گی۔
سزائیں: آن لائن فراڈ کے مراکز چلانے، کرپٹو فراڈ کرنے، ملازمین بھرتی کرنے یا لوگوں کو جبراً سینٹرز تک پہنچانے کی صورت میں ملزمان کو 10 سال قید تا عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے؛ اگر تشدد، غیر قانونی حراست یا اغوا کے دوران موت واقع ہو تو سزائے موت لازمی قرار پائی ہے۔
بین الاقوامی جوابدہی: خطے میں چین اور تھائی لینڈ کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں؛ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا قانون کارروائی کو مزید مؤثر بنائے گا۔
تنقیدی پہلو:
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے وسیع نگرانی کے اختیارات، نجی اور مواصلاتی ڈیٹا کے مرکزی ذخیرے اور سزائے موت کی شق پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے، جن کا مؤقف یہ ہے کہ یہ شقیں ناجائز گرفت و تشدد، قانونی عمل کے فقدان اور نجی آزادیوں کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتی ہیں۔

