سینٹرکوم: فوجیوں کی تصاویر ایران کے لیے استعمال ہورہی ہیں، فون واپس لینے پر غور

admiral 30726 d


واشنگٹن —
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر ایران کو امریکی اڈوں اور حملوں کے نتائج کا فوری اندازہ لگانے میں مدد دے رہی ہیں، لہٰذا بعض مقامات پر فوجیوں سے جلد موبائل فون واپس لیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
خطرے کی نشاندہی: ایڈمرل کوپر نے 28 جولائی کو فوجیوں کو لکھے خط میں خبردار کیا کہ اوپن سورس انٹیلی جنس (خبریں، رپورٹس، فوجیوں کی پوسٹس) ایران کو فوری Battle Damage Assessment فراہم کرتی ہے، جو بعد میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی میں کام آ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اردن سمیت چند مقامات پر تعینات فوجیوں کو زبانی طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے موبائل فون واپس لیے جا سکتے ہیں، تاہم کوئی حتمی حکم ابھی جاری نہیں ہوا۔
حقیقی واقعہ: ایک فوجی نے میٹا اسمارٹ گلاسز سے بنکر کی طرف بھاگتے ہوئے حملے کی ویڈیو بنائی اور انسٹاگرام پر شیئر کی؛ کوپر کے مطابق ایسی ویڈیوز دشمن کو یہ بتاتی ہیں کہ حملہ کہاں اور کس قدر کامیاب رہا۔ سینٹرکوم نے فوجیوں کو آپریشنل سیکورٹی کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی۔ ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے کہا کہ یہ عمومی ہدایت آپریشنل ترجیحات واضح کرنے کا حصہ ہے۔
پس منظر: 28 فروری سے جاری کشیدگی میں اب تک رپورٹ کے مطابق 18 امریکی فوجی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں؛ اس پس منظر میں موبائل فون پابندی اور آپریشنل سیکورٹی کے مزید اقدامات زیرِ غور ہیں۔
امریکی فوج پہلے بھی فٹنس ایپس اور موبائل لوکیشن ڈیٹا کے ذریعے حساس معلومات کے افشاء کے خطرات سے آگاہ کرتی رہی ہے۔
عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق موبائل فونز کی واپسی یا سخت پابندیاں فوجی آپریشنل مؤثریت اور اہلکاروں کی روزمرہ سہولت پر اثر ڈال سکتی ہیں، جبکہ دفاعی حکام اسے فوری حفاظتی اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ