امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر امریکی انحصار کم کرنے اور ڈرونز کی مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے درآمد کیے جانے والے ڈرونز اور ان کے بعض پرزوں پر 100 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ قومی سلامتی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بعض مخصوص بغیر پائلٹ طیاروں یا ڈرون سسٹمز پر 100 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
ان ڈرونز میں وہ بغیر پائلٹ فضائی نظام بھی شامل ہیں جن کا ٹیک آف کے وقت وزن 25 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ڈرونز بھی اس اضافی ٹیکس کی زد میں آئیں گے جن میں قومی سلامتی سے متعلق خصوصی صلاحیتیں موجود ہوں، جیسے تھرمل امیجرز اور ڈرون ڈاکنگ اسٹیشنز۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق بڑے اور حساس نوعیت کے ڈرونز پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا مقصد قومی سلامتی کے خطرات کو کم کرنا اور اہم ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب چھوٹے ڈرونز پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس طرح درآمدی ڈرونز پر عائد ڈیوٹی کا انحصار ان کے حجم، وزن اور تکنیکی صلاحیتوں پر ہوگا۔
امریکا میں ڈرونز کی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں کا نمایاں کردار ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن طویل عرصے سے اس شعبے میں چینی مصنوعات اور ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈرونز اور ان سے متعلق ٹیکنالوجی قومی سلامتی کے حوالے سے اہم ہوچکی ہے، اس لیے امریکا میں ان کی تیاری اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
نئے ٹیکس کے نتیجے میں امریکا میں درآمد کیے جانے والے بعض ڈرونز کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ امریکی کمپنیوں کو مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری اور متعلقہ پرزوں کی پیداوار بڑھانے کی ترغیب ملنے کا امکان ہے۔

