اسلام آباد/راولپنڈی — پاکستان نے 14 اگست کو اپنے 80ویں یومِ آزادی پر ملک گیر جشن منایا؛ اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی ہوئی اور ہزاروں شہری قومی پرچم لہراتے ہوئے "پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگاتے دکھائی دیے۔ سڑکوں، عوامی مقامات اور یادگاروں پر سبز و سفید لباس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، خواتین اور بچے بھی دیر رات تک جشن میں شامل رہے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ "پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے”، مگر ساتھ ہی واضح کیا کہ ملکی خودمختاری اور آبی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی چار روزہ لڑائی اور اس کے بعد معطل کیے گئے پانی کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "پانی کا ہر قطرہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے” اور اگر ضرورت ہوئی تو ملک دفاعی اقدام اٹھائے گا۔
تقریبات میں اسلام آباد میں نئے تعمیر شدہ یادگارِ فتح کا افتتاح بھی شامل تھا، جسے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے پس منظر میں تعمیر کیا گیا۔ حکام نے یومِ آزادی کے موقع پر عوامی جوش و خروش اور قومی یکجہتی کو نمایاں قرار دیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بڑے شہروں میں نظم و نسق برقرار رکھا۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کیجانب سے امن کا پیغام دہرایا گیا، مگر حکومت نے بارہا زور دیا کہ علاقائی سرحدی تناؤ اور آبی تقسیم کے معاملات پر طاقت اور سفارتی دونوں سطحوں پر بھرپور ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔

