اوٹاوا/نئی دہلی — کینیڈا کی دو حقوقِ انسانی تنظیموں نے اتر پردیش کے مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے سلسلے پر اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور سات دیگر ہندوستانی عہدیداروں کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی درخواست گلوبل افیئرز کینیڈا کے سامنے دائر کی ہے۔
جسٹس فار آل کینیڈا اور کینیڈین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ان انڈیا (CFHRDI) نے پیر کو یہ مشترکہ سول سوسائٹی درخواست گلوبل افیئرز کینیڈا کے سینکشن بیورو میں خفیہ طور پر جمع کرائی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کے موجودہ پابندیوں کے فریم ورک، بشمول ’’جسٹس فار وکٹمز آف کرافٹ فارن آفیشلز ایکٹ‘‘ اور ’’اسپیشل اکنامک میژرز ایکٹ‘‘ کے تحت کارروائی کی جائے۔
درخواست میں الزام ہے کہ اتر پردیش میں ریاستی سرپرستی سے مسلم برادری کے خلاف خلافِ قانون قتل، پولیس تشدد، اذیت، تعزیری تخریبی مہم، اجتماعی گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔ تنظیموں نے کہا کہ نامزد عہدیداروں، جن میں سینئر موجودہ اور سابق پولیس افسران بھی شامل ہیں، کا ان بدسلوکیوں سے تعلق ہے اور ملکی احتسابی نظام ناکامی کا شکار رہنے کی صورت میں کینیڈا کی پابندیاں ایک ضروری اقدام ہیں۔
جسٹس فار آل کینیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طٰہٰ غیور نے کہا، "کینیڈا ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو تب تک گہرا نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والی ناقابلِ تردید زیادتیوں سے چشم پوشی کرے۔” درخواست میں پہلے سے جاری بین الاقوامی تنبیہات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پینل آف انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل ایکسپرٹس شامل ہیں۔
تنظیموں نے کینیڈا کے ارکانِ پارلیمنٹ اور وفاقی حکام سے متاثرہ سماجی و سول سوسائٹی گروپوں سے ملاقاتیں کرنے، فراہم کردہ شواہد کا جائزہ لینے اور انسانی حقوق اور احتساب کو دونوں ممالک کے تعلقات میں مرکزی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گلوبل افیئرز کینیڈا شواہد کا آزادانہ جائزہ لے اور نامزد آٹھ عہدیداروں کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرے۔ مکمل درخواست خفیہ طور پر جمع کرائی گئی ہے۔
اس تازہ مہم کی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور گزشتہ ہفتے 40 سے زائد کینیڈا کی سول سوسائٹی، حقوقِ انسانی، مزدور اور مذہبی تنظیموں نے بھی ایک منسلک درخواست کے تحت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی کینیڈا آمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

