حملہ آوروں نے مجھے سنائپر سے نشانہ بنانے کی کوشش کی: وزیر داخلہ بلوچستان

397713 232214853


بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے ہفتے کو کہا ہے کہ 14 اگست کو مستونگ میں ان کے قافلے پر حملے کے دوران مسلح افراد نے انہیں سنائپر سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ان کی گاڑی کو چھ گولیاں لگیں اور سکیورٹی کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔

ضیا لانگو نے حملے کے بعد پریس بریفنگ میں بتایا کہ وہ 14 اگست کی تقریبات میں شرکت کے لیے اپنے آبائی علاقے قلات گئے تھے اور کوئٹہ واپسی کے دوران مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی میں ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے پولیس کی ایک گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا تھا تاہم اطلاع ملنے کے بعد مستونگ سے انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور پولیس اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا۔

وزیر داخلہ نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد نے انہیں خاص طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

’حملہ آوروں نے سنائپر سے مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن میں معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ میری گاڑی کو چھ گولیاں لگیں اور حملے میں میرے سکیورٹی کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔‘

ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں تاہم بعض علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے صوبے میں جاری بدامنی کو حقوق اور آزادی کی جنگ قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بقول مسلح گروہ افغان طالبان اور انڈیا کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل واقعات بلوچستان کے عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں اور مسلح گروہوں کی قیادت پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بیرونی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔

’اس طرح کے حملوں سے ہمیں پاکستانیت سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان کے عوام نے بہت کچھ برداشت کر لیا ہے اور کر رہے ہیں۔ دہشت گرد بلوچوں کے حقوق اور آزادی کی کوئی جنگ نہیں لڑ رہے، مسلح گروہوں کی لیڈر شپ افغان طالبان اور انڈیا کے ہاتھوں یرغمال ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے قلات اور بلوچستان کے دیگر دور دراز علاقوں میں مریضوں، خصوصاً خواتین کے لیے ایمبولینسز فراہم کی ہیں، تاہم ان کے بقول مسلح افراد ان سہولیات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں نے بعض ایمبولینسز چھین کر انہیں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا ہے اور کہا کہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے والے اپنے ہی لوگوں سے بنیادی سہولیات نہیں چھینتے۔

’حقوق کی جنگ لڑنے والے اپنے عوام سے سہولیات نہیں چھینتے۔‘

ضیا لانگو نے مزید کہا کہ مسلح افراد زمینداروں اور کاروباری افراد سے بھتہ وصول کر رہے ہیں، جس سے بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے اور سرمایہ دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں اور بلوچستان کی معیشت کو ہو رہا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’مسلح دہشت گرد زمینداروں اور کاروباری لوگوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے میں کاروبار بند ہونے اور سرمایہ باہر منتقل ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ