بنگلا دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی کو ٹیم کی کسی بھی فارمیٹ میں اب تک کی سب سے بڑی فتح قرار دے دیا۔
بنگلا دیش نے ڈارون میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔
ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود بنگلا دیش کی آسٹریلیا میں یہ صرف تیسری ٹیسٹ میچ میں شرکت تھی، تاہم مہمان ٹیم نے آسٹریلیا کی مکمل قوت پر مشتمل ٹیم کو تمام شعبوں میں آؤٹ کلاس کر دیا۔ آسٹریلیا اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر بھی سرفہرست ہے۔
میچ کے بعد تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے نجم الحسن شانتو نے کہا کہ یہ بنگلا دیش کی کسی بھی فارمیٹ میں اب تک کی سب سے بڑی فتح ہے، مستقبل میں بھی ٹیم کچھ خاص کرنے کی کوشش کرے گی۔
https://www.facebook.com/cricketcomau/videos/this-is-the-biggest-win-so-far-for-bangladesh-cricket-in-any-format-captain-najm/27857435127259525/
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی بہت خوش اور فخر محسوس کر رہے ہیں، جبکہ پوری ٹیم نے کامیابی کے لیے بہت محنت کی۔
بنگلا دیشی کپتان نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی ٹیم کے فاسٹ بولنگ شعبے میں بہتری کو بنگلا دیش کرکٹ میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 5، 6 سال پہلے فاسٹ بولرز ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے کیونکہ ٹیم کو زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔
نجم الحسن شانتو کے مطابق گزشتہ 2، 3 سال کے دوران بنگلا دیش نے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، جس کے باعث کھلاڑی اب ٹیسٹ فارمیٹ کو اہمیت دے رہے ہیں اور عالمی معیار کا کھلاڑی بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں، خصوصاً مشفق الرحیم اور مومن الحق نے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں مزید ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دی۔
فاسٹ بولر حسن محمود کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، انہوں نے مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں، جن میں پہلی اننگز میں 6 وکٹیں بھی شامل تھیں۔
Source link

