برازیلیا: برازیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برازیلی مصنوعات پر عائد کیے گئے ٹیرف کے خلاف اپنے ’’اقتصادی جوابی مساوات کے قانون‘‘ کے تحت باضابطہ کارروائی شروع کردی ہے، تاہم حکومت نے فوری طور پر جوابی محصولات عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔
برازیلی صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے کہا ہے کہ قانون کا نفاذ اس بات کا اظہار ہے کہ برازیل اپنی خودمختاری اور مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ برازیلی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کو باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے سفارتی مشاورت کی درخواست کی ہے تاکہ دونوں ممالک امریکی ٹیرف کے اثرات کم یا ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرسکیں۔
حکام کے مطابق قانون فعال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی مصنوعات پر خودکار طور پر مساوی ٹیرف عائد کردیا جائے گا۔ برازیل پہلے ملکی صنعتوں پر امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لے گا، جبکہ حکومتی خارجہ تجارتی بورڈ ممکنہ ردعمل پر غور کرے گا۔ اس عمل میں عوامی مشاورت بھی شامل ہوگی۔
برازیلی قانون کے تحت ممکنہ اقدامات میں امریکی اشیا پر محصولات، خدمات یا درآمدات پر پابندیاں، تجارتی مراعات کی معطلی اور دانشورانہ املاک سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوری جوابی کارروائی سے سپلائی چین متاثر، اخراجات میں اضافہ اور ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔
برازیل امریکی اقدامات کو عالمی تجارتی تنظیم میں چیلنج کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ حکومت نے ٹیرف سے متاثرہ شعبوں کو قرضوں اور دیگر مالی سہولتوں کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔
صدر لولا ڈا سلوا نے امریکہ کو برازیل کے داخلی معاملات اور اکتوبر 2026 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت سے خبردار کیا ہے، تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ سیاسی کشیدگی کے دوران لولا دوبارہ انتخاب کی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ان کے اہم سیاسی حریف سینیٹر فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے اور ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

