واشنگٹن/تہران: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان سنجیدہ حکومتی پالیسی نہیں بلکہ مذاق تھا، جبکہ ایران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر کڑی تنقید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیویارک کے گارڈن سٹی میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو ریاستہائے متحدہ کا علاقہ قرار دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل ناکہ بندی رکھتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز گزر نہیں سکتا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر برائن شوارٹز نے وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے مشیروں سے کوئی مشاورت نہیں کی اور یہ بیان محض مذاق کے طور پر دیا گیا تھا۔ رپورٹر کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات ہنستے ہوئے کہی، تاہم بعد میں اسے درست قرار دینے پر اصرار کیا۔
ایرانی فوجی کمانڈ نے امریکی کنٹرول سے متعلق دعووں کو ’’بے بنیاد جھوٹ اور افترا‘‘ قرار دیا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو کسی ٹویٹ، طیارہ بردار جہاز، حکم یا انتخابی تقریر کے ذریعے فتح نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ایران کی ہے اور ایران کی رہے گی، جبکہ اس کی بندش یا بحالی کا فیصلہ ایران ہی کرے گا۔ ایرانی حکام نے امریکہ سے جنگ میں اپنی شکست تسلیم کرنے اور خطے میں مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، ایران کی اجازت اور نگرانی کے بغیر کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب امریکہ ایرانی اقدامات کو بحری ناکہ بندی قرار دیتا ہے، جبکہ ایران بھی امریکی نگرانی اور پابندیوں کو اسی اصطلاح سے تعبیر کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے 166 دنوں میں 12 اگست تک تقریباً 3,771 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ سے پہلے کی روزانہ 130 سے زائد جہازوں کی آمدورفت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ جمعہ کے روز صرف دو جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ خام تیل کی کوئی کھیپ نظر نہیں آئی۔ بعض جہازوں کے ٹرانسپونڈر بند کرکے گزرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی نے بتایا کہ جمعہ کی شام اس کے دو جہاز آبنائے ہرمز میں حملے کی زد میں آئے۔ اماراتی خبر رساں ادارے نے ایک مزید جہاز پر حملے کی اطلاع بھی دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی تھی، جبکہ 17 جون کو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم سلامتی کی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت سمیت متعدد معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم قطر اور پاکستان جیسے ثالث ممالک ایران سے رابطے میں ہیں اور پیغامات پہنچا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

