آج 17اگست2026ء ہے۔ آج52دنوں کے طویل وقفے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس ہو رہا ہے ۔ پارلیمانی امور وزارت کی جانب صدرصاحب کو بھیجی گئی سمری منظور کی جا چکی ہے۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ، ڈاکٹر طارق چودھری، بھی اِس کی تصدیق کر چکے ہیں ۔آج سہ پہر کے وقت پہلے چار بجے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا اجلاس ہوگا، پھر پانچ بجے قومی اسمبلی کا۔ اسلام آباد کے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ آج کے دونوں اجلاسوں میں پی ٹی آئی متوقع نئی قانون سازی، آئینی ترامیم اور ملکی سیاسی صورتحال ( خصوصاً بانی پی ٹی آئی کی صحت) بارے دونوں ایوانوں میں مقدور بھر احتجاج کرے گی ۔ مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے جو طے کررکھا ہے ، ہوگا وہی ۔ ویسے احتجاجات اور شور شرابا جتنا مرضی ہے کر لیا جائے !بعض ’’سیانوں‘‘ کی یہ بھی پیش گوئی ہے کہ آج کے پارلیمانی اجلاسوں میں پی ٹی آئی کے ارکان کچھ بھی نہیں کر سکیں گے کہ پی ٹی آئی کو ، مبینہ طور پر، اپنے بانی بارے کئی ’’یقین دہانیاں‘‘ کروائی گئی ہیں ؛ چنانچہ پی ٹی آئی میں اُمید اور آس کی کئی شمعیں روشن ہُوئی ہیں ۔
اس لیے پی ٹی آئی کے شوریدہ سر ارکانِ پارلیمنٹ شور شرابے سے گریز ہی کریں گے ۔ ویسے بھی دو ہی دن قبل وفاقی وزیر داخلہ ، محسن نقوی ، نے چیئرمین پی ٹی آئی ، بیرسٹر گوہر خان ، سے اُن کی رہائش گاہ پر جا کر اُن کی والدہ کے انتقال بارے جو تعزیت کی ہے ، اِس سے بھی برف پگھلنے کے اشارے ملے ہیں ۔ یہ برف بالآخر پگھلنی ہی ہے ۔بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرگان بھی بیک زبان اب یہ کہتے ہُوئے سنائی دے رہی ہیں کہ زندانی بھائی سے ہماری ملاقات کروا دی جائے تو ہم باہر نکل کر ( حسبِ سابق) کوئی متنازع ، سیاسی گفتگو نہیں کریں گی۔ویسے بھی بانی پی ٹی آئی ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین کشیدگی اور تناؤ کب تک برقرار رہ سکتا ہے ؟
آج کی تاریخ (17اگست)اس لیے بھی اہم اور یادگار ہے کہ آج کی تاریخ ہی کو پاکستان کے سابق شخصی حکمران ، ضیاالحق، ہوائی حادثے میں دُنیا سے رخصت ہُوئے تھے ۔یہ حادثہ و سانحہ38برس قبل جب وقوع پذیر ہُوا تھا، اُس روز بدھ تھا۔38برس گزر گئے ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ ایک غیر منتخب و جابر حکمران کی رخصتی کو ہم کیوں یاد کریں؟دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آج شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے دونوں اجلاسوں میں ارکانِ پارلیمنٹ 38برس قبل جاں بحق ہونے والے حکمران کو کتنا اور کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں؟یاد بھی کرتے ہیں یا نہیں؟اِسی سے اندازہ ہو جائے گا کہ رخصت ہونے والا یہ شخص ہماری قومی سیاست میں کیا اہمیت رکھتا تھا؟ اور یہ کہ اُس کے جانے کے بعد ہم سب اُس کی کتنی کمی محسوس کررہے ہیں؟ اُس کے اچانک چلے جانے سے ہماری قومی زندگی میں کوئی خلا بھی محسوس ہُوا یا ایک جابرانہ دَور کے خاتمے پر سب نے ریلیف محسوس کیا؟یہ بھی مشاہدہ کرنا ہے کہ بہاولپور کی نواحی بستی ، بستی لال کمال، میں سی وَن تھرٹی دیو ہیکل جہاز کے کریش ہونے سے سابق حکمران سمیت جو31جانیںخاک میں مل گئیں، ہمارے آج کے مقتدر سیاستدان اور جمہوریت کے متوالے گزرنے والے پر اشکبار بھی ہوتے ہیں یا نہیں؟دیکھنا یہ بھی ہے کہ 11برس پاکستان اور پاکستانیوں پر اپنا تسلّط جمائے رکھنے والے اور روشن خیال سیاست و سیاستدانوں کا قلع قمع کرنے کی ہر کوشش کرنے والے سابقہ حکمران( جس نے ایک منتخب وزیر اعظم کا دھڑن تختہ کیا تھا) کو ہمارے آج کے منتخب سیاستدان کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں؟
کوئی بھی انصاف پسند شخص کسی بھی ناگہانی موت پر افسردہ اور رنجیدہ ہی ہوتا ہے ،مگر 17اگست کے سانحہ کو شائد کوئی بھی باشعور اور جمہوریت پسند پاکستانی یاد نہیں رکھنا چاہتا۔ہاں مگر جن سیاستدانوں اور اخبار نویسوں نے زیڈ اے بھٹو کے بغض میں ضیاء آمریت کی زبردست حمائت کی،گیارہ برس اُن کی اُنگلیاں گھی میں ڈُوبی رہیں!ایسے اشخاص اور افراد آج بھی اُس جابرانہ دَور کو پاکستان کا ’’بہترین‘‘ دَور کہتے اور قرار دیتے نہیں تھکتے ۔ٹھیک ہی تو کہتے ہیں: جس کا کھایا ہو، اُس کے گیت بھی تو گانے چاہییں۔
ایک بات مگر واضح اور روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو پاکستانی38سال قبل شخصی دَور کو اچھا اور مستحسن گردانتا ہے، وہ سچائی اور جمہوریت کا علمبردار ہو سکتا ہے نہ بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم کے جمہوری و قومی آدرشوں کا سچا عاشق۔ آمریت کی محبت اور جمہوریت سے لگاؤ کبھی یکجا نہیں ہو سکتے ۔اڑتیس برس قبل آج ہی کی تاریخ کو جب وہ ’’صاحب‘‘ دُنیا سے رخصت ہُوئے، ہم نے پی ٹی وی پر بعض سرکاری اینکروں کو اشک بہاتے دیکھا۔ اِس منظر نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا تھا کہ آیا ایک شخصی حکومت کی رخصتی کسی پاکستانی کی آنکھ کو نم بھی کرسکتی ہے؟
یادش بخیر،ایک صحافی کی حیثیت میں راقم بھی ضیاء کے جنازے میں شریک تھا۔میرے ادارے نے رپورٹنگ کے لیے میری ڈیوٹی لگائی تھی۔ اُس روز بلا کا حبس تھا ۔ بہت سے لوگ جنازے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔مَیں نے جنازے میں شرکت کنندگان کو رخصت ہونے والے کے لیے آنسو بہاتے دیکھا اور حیران بھی ہُوا۔ یہ مناظر دیکھ کر معاً خیال آیا : کیا یہی ہیں وہ پاکستانی جو آمریت سے نالاں اور ناراض تھے اور اب آنسو بہا رہے ہیں؟ جنازے کے اژدھام میں مجھے بار بار وہ مناظر یاد آ رہے تھے جب 11سالہ حکمران کے دور میں کئی پاکستانی اخبار نویسوں کے برہنہ بدنوں پر کوڑے برسائے گئے ۔
اُن کے بدن لہولہان کر ڈالے گئے ۔ متعدد صحافیوں کو قیدو بند اور جرمانوں کی سزائیں دی گئیں ۔گیارہ سالہ دَور میں کئی ایسے روزنامہ اخبارات، ہفت روزہ اور ماہنامہ جرائد بند کر دیئے گئے جنہوں نے آمریت کی مخالفت کی تھی ۔ مجھے معروف اور جرأتمند صحافی نثار عثمانی سے کیا گیا اپنا انٹرویو بھی یاد آتا رہا جس میں اُنہوں نے مجھے چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی لاہورکے گورنر ہاؤس میں کی گئی اوّلین پریس کانفرنس کا ہوشربا قصہ سنایا تھا۔ یہ قصہ سن کر ہی مَیں تو سُنّ ہو گیا تھا۔براہِ راست مشاہدہ کرنے والے صحافیوں کا کیا حال ہُوا ہوگا؟
حیرت ہوتی ہے کہ پھر یہی پاکستانی صحافت اور صحافی تھے جنہوں نے17اگست کو رخصت ہونے والے پر ، اشکبار ہوتے ہُوئے، اپنے خاص نمبرز بھی شائع کیے ۔ اِن خصوصی نمبرز میں سابقہ شخصی حکمران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین و عقیدت پیش کیا گیا ۔ یہ خاص نمبرز آج بھی ہماری قومی اور نجی لائبریریوں میں محفوظ ہیں ۔راقم جس صحافتی ادارے سے وابستہ تھا، مَیں نے بھی دو ضخیم خاص ’’ضیاء الحق نمبرز‘‘ شائع کیے ۔ ان دونوں خصوصی اشاعتوں میں ضیائی حکومت اور ضیاکی شخصیت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے گئے تھے ۔ یہ کالم لکھنے سے قبل راقم نے وہی دونوں خصوصی نمبرز نکال کر اپنے سامنے رکھے ، ان کی ورق گردانی کی اور ندامت کا شدید تر احساس ہوتا رہا ۔
آج 17اگست کے دن کے حوالے سے بہت سی یادیں دماغ اور آنکھوں کے سامنے رقص کناں ہیں ۔ دل افسردہ ہے کہ ہم پاکستانی بھی کیسی بدقسمت قوم ہیں کہ ہم نے اپنی تاریخ کے چار عشرے چار آمریتوں تلے گزار دیئے ۔ ہماری چاروں مارشل لائی حکومتیں بھی پاکستانیوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی زندگیوں میں کوئی بہتری نہ لا سکیں۔ 17اگست 1988ء کو اچانک ختم ہونے والی آمریت تو ہمارے گوڈوں گٹوں میں بیٹھ گئی۔ ہمارے ایک بزرگ صحافی ہُوا کرتے تھے: رفیق ڈوگر صاحب مرحوم۔ ایک زمانے میں اُن کے ہفت روزہ اخبار ’’دید شنید‘‘ نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اُنہوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔جن میں سے ایک کتاب ضیاء الحق پر بھی لکھی۔اگر 17اگست کے سانحہ کے حوالے سے کوئی سابق غیر جمہوری و غیر منتخب حکمران کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہے تو اُسے چاہیے کہ ’’اصلی ضیاء الحق : دید و شنید‘‘ چشم کشا کتاب پر بھی ایک نظر ڈال لے ۔ دل و دماغ خاصے’’ روشن‘‘ ہو جائیں گے ۔ نہ چاہتے ہُوئے بھی آج17اگست نے پھر سے تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں:کب تلک یاد کریں اور کتنا روئیں/ اِس سے بہتر ہے کہ اب خاموش ہی سوئیں!!

