لاہور:
پولیس اہل کاروں کے ٹارگٹ کلرز سے روابط کا انکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے تفتیش میں اہم شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور ٹارگٹ کلرز سے روابط کے الزام کی تحقیقات کے دوران زیر حراست 2 پولیس اہلکاروں سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اہلکار اسٹریٹ کرائم میں مرکزی ٹارگٹ کلر ریحان کی پشت پناہی کرتے تھے۔
پولیس کے مطابق ٹارگٹ کلر ریحان میٹرو بس میں موبائل چوری اور اسنیچنگ کی وارداتیں کرتا تھا۔ زیر حراست پولیس اہلکار اپنے یونٹس میں موجود اثر و رسوخ اور تعلقات استعمال کرکے ریحان کی مدد کرتے رہے۔
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ پولیس اہلکار ٹارگٹ کلر ریحان کی ضمانت پر رہائی اور اس کا ریکارڈ ختم کروانے میں مدد کرتے تھے۔ زیر حراست ایک اے ایس آئی کریمنل ریکارڈ برانچ میں جبکہ کانسٹیبل لوئر مال انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھا۔
پولیس کے مطابق زیر حراست دونوں اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں، جبکہ ان کے موبائل فونز کا فرانزک بھی جاری ہے۔

