تل ابیب
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے نوجوان اسرائیلیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جنہوں نے غزہ میں تمام فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں کو بھی قتل کرنے کی حمایت کی۔ لاپڈ نے حکومتی وزرا کے متنازع بیانات اور اسرائیل مخالف ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی پالیسی پر بھی تنقید کی ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لیپڈ۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ ان کی ملاقات اسرائیل کے نوجوانوں کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں نے غزہ کی پٹی میں تمام فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں کو بھی قتل کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ لاپڈ نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں یہ بات کہی، جس کے کچھ اقتباسات گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر گردش کرتے رہے ہیں۔
لاپڈ نے کہا، ”میری ملاقات بہت کم عمر افراد کے ایک گروپ سے ہوئی جو میرے لیے تکلیف دہ تھی۔ میں نے ان سے ایسے بیانات سنے جن میں سب کو قتل کرنے اور یہ دعویٰ کرنے کی بات کی گئی کہ کوئی بھی بے گناہ نہیں ہے۔” انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ان نوجوانوں سے پوچھا، ”کیا بچوں کو بھی؟” لاپڈ کے مطابق، نوجوانوں نے جواب دیا، ”بچوں کو بھی، کیونکہ آخرکار وہ بڑے ہوکر دہشت گرد بن جائیں گے۔”
یاد رہے کہ 8 اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جن میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حکام اور عوامی شخصیات کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت کے استعمال اور شہریوں و جنگجوؤں کے درمیان فرق کو کم اہمیت دینے سے متعلق متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔ لاپڈ نے حکومتی وزرا کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس بات سے ”کبھی صحت یاب نہیں ہوگا” کہ اس نے ایک ایسے وزیر کو عہدے پر برقرار رہنے دیا جس نے غزہ پر ایٹم بم گرانے کی بات کی تھی۔ اسرائیلی وزیر برائے ورثہ امیخائی ایلیاہو نے نومبر 2023ء میں غزہ کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی حمایت کی تھی۔
لاپڈ نے غزہ میں شہریوں کو بھوکا رکھنے سے متعلق اسرائیلی حکام کے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے وزرا کا عہدے پر برقرار رہنا، جو اس طرح کے بیانات دیتے ہیں، اسرائیل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے ان ممالک کے حوالے سے بھی اسرائیلی حکومت کی پالیسی پر بات کی جو اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی تعلقات ختم کرنا یا سفارت خانے بند کرنا اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ لاپڈ نے کہا کہ آئرلینڈ اور اسپین میں اسرائیل مخالف بیانات ناقابل قبول تھے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈبلن میں اسرائیلی سفارت خانہ بند کرنا یا میڈرڈ سے اسرائیلی سفیر کو واپس بلانا کس حد تک مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بجائے ان ممالک کا دورہ کرنا، وہاں کے ذرائع ابلاغ میں اظہار خیال کرنا اور اسرائیل کے ناقدین سے براہِ راست بات چیت کرنا پسند کریں گے، نہ کہ ان کا بائیکاٹ کریں

