سعودی،حوثی کشیدگی کے درمیان ایران کو مبینہ طور پر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے دستخط کیے ہیں، جبکہ تہران ایک علاقائی سلامتی کے فریم ورک پر غور کر رہا ہے۔
تہران: ایران کو ۷؍ اگست کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی اطلاع لبنانی میڈیا ادارے المنار نے دی، جبکہ پاکستان کے ساماء ٹی وی کے مطابق تہران اس معاملے پر غور کر رہا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اسے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم ایرانی پارلیمنٹ کی خانہ ملت نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی نے بتایا کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت ملی ہے اور اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رحیمی کے مطابق خطے کے ممالک علاقائی سلامتی کی چھتری کی تلاش میں ہیں، اور یہ ایران کے لیے ایک کامیابی ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ تاہم دعوت کی تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں، کیونکہ رحیمی نے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک نے دعوت دی، اور کسی بھی ملک نے سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوگان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط کردہ مکہ دفاعی معاہدے میں نیٹو طرز کی باہمی دفاعی شق شامل ہے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکی پہلے ہی مصر کو معاہدے میں شامل دیکھنے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ یہ معاہدہ ایک خصوصی کلب بن جائے۔ تاہم معاہدہ نیٹو طرز کی مربوط فوجی کمان قائم نہیں کرتا اور اس میں مخصوص فوجی وعدے بہت محدود ہیں۔
دریں اثنا تہران نے اس اتحاد کے حوالے سے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے اور واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے آزاد علاقائی سلامتی کی چھتری کا خواہاں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ۱۰؍ اگست کو کہا کہ اس اتحاد کے قیام پر تہران کو کوئی تشویش نہیں۔
اگرچہ یہ معاہدہ امریکہ-ایران جنگی بحران کے نتیجے میں سامنے آیا، تاہم علاقائی تجزیہ کار اور اسرائیلی سیکیورٹی حکام اسے بنیادی طور پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دفاعی روک تھام کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جو امریکی ثالثی میں "نئے مشرق وسطیٰ” کے سابقہ وژن کے بالکل برعکس ہے۔
خیال رہے کہ حوثی باب المندب آبنائے کے قریب زمینی قبضے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے وہ اس اہم بحری راستے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ سعودی عرب ہرمز بحران کے دوران اپنی تیل برآمدات کے لیے مکمل طور پر بحیرہ احمر کی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے ایران کو مبینہ دعوت خاصی متضاد قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ حوثی اس اتحاد کے لیے سب سے فوری آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی شمولیت کے کامیاب ہونے کے لیے سعودی عرب اور ایران دونوں کو یمن اور حوثیوں کے معاملے پر سمجھوتہ کرنا اور ٹھوس مراعات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

