ٹائرول — ایک آسٹرین کوہ پیما کو ۶۳ سال قبل گلیشیئر کی گہری دراڑ میں چھوڑا ہوا اپنا بیگ دوبارہ مل گیا ہے۔ برف پگھلنے کے باعث طویل عرصے سے گمشدہ بیگ بالآخر سطح پر آ گیا۔ ۸۶ سالہ کوہ پیما نے اگست ۱۹۶۳ء میں آسٹریا کے علاقے ٹائرول میں واقع سُلزٹل فیرنر گلیشیئر پر کوہ پیمائی کے دوران ایک دراڑ میں گرنے کے بعد اپنا بیگ کھو دیا تھا۔ سی این این کے مطابق وہ اس حادثے میں محفوظ رہے، لیکن بیگ ان کے ساتھ باہر نہ آ سکا۔
۶۳ سال بعد ایک ہائیکر نے تقریباً ۳ ہزار میٹر کی بلندی پر گلیشیئر سے یہ گمشدہ سامان دریافت کیا۔ آسٹرین پولیس کے مطابق بیگ کے اندر برف کاٹنے کا کلہاڑا، کیمرا، سیٹی اور دستاویزات حیرت انگیز طور پر محفوظ تھیں۔ دستاویزات سے ملنے والے سراغ کی بدولت پولیس بیگ کے مالک تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس وقت کوہ پیما اپنے ساتھیوں کے ساتھ رسی سے بندھے گلیشیئر عبور کر رہے تھے کہ دراڑ میں جا گرے۔ ساتھیوں نے انہیں محفوظ کھینچ لیا، مگر خود کو ہلکا کرنے کیلئے بیگ چھوڑ دیا گیا تھا۔
خراب صحت کے باعث کوہ پیما خود سامان وصول کرنے نہ جا سکے، چنانچہ پولیس نے یہ سامان ان کے بیٹے کے حوالے کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت عالمی درجۂ حرارت میں اضافے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا نتیجہ ہے، جس سے دہائیوں یا صدیوں سے برف تلے دبی اشیا اور انسانی باقیات سامنے آ رہی ہیں — جیسا کہ ۱۹۹۱ء میں دریافت ہونے والا "اوٹزی دی آئس مین” جو تقریباً ۵ ہزار ۳۰۰ سال تک برف میں محفوظ رہا۔

