تازہ خبر — 16 اگست 2026، تہران/مسقط: ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک متفقہ راستے کا نقشہ حتمی کر لیا ہے، جسے دونوں کے درمیان سفارتی اور سمندری تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں تاہم علاقے میں مکمل امن و امان کی بحالی امریکی مداخلت اور بحری پابندیوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔
بیان کے مطابق ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز سے ملحق ساحلی ریاستیں ہیں، نے باہمی مشاورت کے بعد ایک لائحہ عمل اور محفوظ جہاز رانی کے راستے پر اتفاق کیا ہے۔ بقائی نے دفاعی اور سفارتی مباحثوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران کوئی بڑی رکاوٹ سامنے نہیں آئی اور دونوں فریقین نے تعمیری انداز اپنایا۔
بقائی نے علاقائی بدامنی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں موجودہ عدم تحفظ کی براہِ راست وجوہات ان ممالک کی جارحانہ کارروائیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا مقصد صرف بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کا مکمل کھلنا اس وقت ممکن ہوگا جب امریکہ مداخلت اور پابندیوں کے سلسلے کو ختم کرے گا اور مفاہمتی شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔
عالمی تاجر بحری راستے اور توانائی کی دنیا کے لیے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ تیل کی بین الاقوامی تجارت میں اس راستے کی اہمیت کے پیشِ نظر کسی بھی طرح کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران اور عمان کے حالیہ معاہدے کو علاقائی استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، مگر مکمل سنجیدگی اور دیرپا امن کے لیے دیگر عالمی قوتوں کی پالیسیاں بھی فیصلہ کن ہوں گی۔
عالمی ردعمل اور آئندہ لائحہ عمل
ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ تکنیکی مذاکرات آگے جاری رہیں گے اور متعلقہ ساحلی ریاستیں عمل درآمد کی نگرانی کریں گی۔
علاقائی اور بین الاقوامی شراکت دار ممکنہ سیاسی و اقتصادی اثرات کا جائزہ لیں گے، جبکہ بحری تحفظ کے بین الاقوامی ادارے نگرانی بڑھا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی اور پابندیوں کا خاتمہ ہی اس راستے کو مکمل طور پر محفوظ بنا سکتا ہے۔

