تل ابیب — نیتن یاہو کے انتخابی اشتہار میں ممدانی اور اردگان کو خامنہ ای، حزب اللہ رہنما کے ساتھ دکھایا گیا؛ سیاسی ہنگامہ

Inquilab 20260817 185239 0000 d


تل ابیب — اسرائیل کی حکمران لیکود پارٹی کے ایک انتخابی بل بورڈ میں نیویارک کے میئر زرعان (زہران) ممدانی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تنازع اور طنزیہ ردعمل سامنے آیا۔
بل بورڈ میں چاروں افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو آئندہ 27 اکتوبر کے عام انتخابات میں ہار جائیں۔ پوسٹر پر واضح الفاظ میں لکھا تھا: "وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔” نیتن یاہو نے ٹوئٹر پر اس بل بورڈ کی تصویر دوبارہ پوسٹ کرکے اشتہار کا پیغام دہرایا۔
یہ اشتہار تل ابیب کے ایالون ہائی وے کے سامنے آویزاں کیا گیا تھا، اگرچہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس نے اسے یروشلم میں دکھایا۔ اشتہار ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور انتخابی جائزوں میں اپوزیشن پارٹیاں مضبوط نظر آ رہی ہیں۔
اس بل بورڈ پر مقامی حریف سیاست دانوں کی جانب سے طنزیہ جواب بھی آیا۔ سابق آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت والی ’یشار‘ پارٹی نے اسی پوسٹر کا ترمیم شدہ ورژن شائع کیا جس میں متن بدل کر لکھا گیا: "وہ چاہتے ہیں کہ آئی ڈی ایف تباہ ہوجائے، نیتن یاہو کو جیتنے نہ دیں۔”
ممدانی اور اردگان دونوں نے نیتن یاہو اور غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے سخت نقاد کے طور پر شہرت حاصل کی ہے، مگر انہیں خامنہ ای اور نعیم قاسم کے ساتھ ایک ہی فریم میں دکھانا، ان ممالک اور گروپس کی قیادت کے ساتھ یکجائی ظاہر کرنا، اسرائیلی حلقوں میں شدید اشتعال کا باعث بنا۔ غزہ جنگ کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے اور اردگان نے اسرائیل کے اقدامات پر کئی بار تنقید کی ہے اور بعض اوقات نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
ممدانی، جو اس سال نیویارک کے میئر بنے ہیں، نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے نیو یارک آئیں تو انہیں وہاں خیرمقدم نہیں کیا جائے گا، اور اس حوالہ سے انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا حوالہ دیا تھا۔ نیتن یاہو نے ممدانی پر "نفرت پھیلانے” کا الزام لگایا ہے، جب کہ دونوں طرف کے حامی اور مخالفین اس معاملے کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ