اسلام آباد: ملک بھر میں گھی، خوردنی تیل اور دودھ کی مصنوعات کے 491 نمونوں کی جانچ کے دوران متعدد اشیاء کے غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، گھی کے 26 نمونوں میں ٹرانس فیٹ کی مقدار مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ پائی گئی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی جانب سے اشیائے خورونوش کے معیار سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گھی کے 46 نمونوں میں وٹامن اے موجود نہیں تھا جب کہ متعدد نمونوں میں نمی اور بدبو کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیک شدہ دودھ کے 26 نمونوں میں چکنائی مقررہ معیار سے کم پائی گئی جب کہ دودھ کے پاؤڈر کے 8 نمونوں میں پروٹین کی مقدار مطلوبہ معیار سے کم ریکارڈ ہوئی۔
پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گھی کے 79.4 فیصد، سندھ میں 63.3 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 58.3 فیصد نمونے غیر معیاری قرار دیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پیک شدہ دودھ کے تمام نمونے معیار پر پورا نہ اترسکے جب کہ پنجاب میں گھی کے 15.9 فیصد نمونے غیر معیاری پائے گئے۔
وفاقی دارالحکومت میں گھی کے 5.5 فیصد نمونے غیر معیاری قرار دیے گئے جس پر اجلاس میں خوراک کے معیار کی نگرانی مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے متعلقہ اداروں کو غیر معیاری خوراک کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ مشترکہ معیارِ خوراک کا نظام قائم کرنے اور دیہی منڈیوں کو بھی خوراک کے معیار کی نگرانی کے نظام میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ نوجوانوں میں دل کے امراض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری خوراک ہے، اس لیے خوراک کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس میں پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی رپورٹ وزارتِ قومی غذائی تحفظ کو بھجوانے اور خوراک کے معیار کی سہ ماہی نگرانی کا نظام قائم کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
دوسری جانب اجلاس میں ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی 80 فیصد آبادی گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتی ہے۔
اجلاس میں اوگرا کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں ایل پی جی کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی۔
کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا کو ایل پی جی کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں کے فرق کا مسئلہ تین روز میں حل کرنے کی ہدایت کردی۔

