برطانیہ: مسلم مخالف حملوں اور تارکینِ وطن مخالف جذبات میں خطرناک اضافہ


ایڈنبرا | بیلفاسٹ | لندن — خصوصی رپورٹ
برطانیہ میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکینِ وطن مخالف جذبات ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ۱۹ جون کو ایک ۳۶ سالہ سفید فام شخص نے سلسلہ وار حملے کیے جن میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق بعض زخمی افراد مسجد سے باہر نکلنے کے فوراً بعد نشانہ بنے، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور نے مسلم مخالف نعرے لگائے اور چاقو یا کلہاڑی نما ہتھیار استعمال کیا۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے اس واقعے کو ممکنہ مسلم مخالف نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ واقعہ بیلفاسٹ میں تارکینِ وطن مخالف فسادات کے چند روز بعد پیش آیا، جہاں ایک سوڈانی شہری پر قتل کی کوشش کے الزام کے بعد نقاب پوش افراد نے گاڑیاں اور گھر نذرِ آتش کیے اور نسلی اقلیتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ متعدد خاندانوں کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر نقلِ مکانی کرنا پڑی۔
سیاسی محاذ پر ریسٹور برٹین پارٹی کے رکنِ پارلیمان روپرٹ لو نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ”لاکھوں لوگوں کو جانا چاہیے۔” ان کے بیانات کو ناقدین نے نسل پرستانہ قرار دیا ہے، جبکہ حامیوں نے اسے عوامی خدشات کا اظہار کہا ہے۔ مبصرین کے مطابق برطانیہ کا موجودہ سیاسی ماحول ۱۹۶۰ء کی دہائی کی ”ریورز آف بلڈ” تقریر کے بعد کی کشیدگی کی یاد دلاتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ