کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
بہت سی اصطلاحیں ہیں
جو مٹی کے اسکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انھیں متروک کر ڈالا
زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحہ پلٹنے کا
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کر لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر
نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے، چھوتے تھے جبیں سے
خدا نے چاہا تو وہ سارا علم تو ملتا رہے گا بعد میں بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول
کتابیں مانگنے، گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہوگا؟
وہ شاید اب نہیں ہوں گے
گلزار کی یہ نظم گویا نوحہ ہے کتابوں کا۔ زمانہ کس طرح اور کتنا بدل گیا، اب گھروں میں بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں نہیں آتیں، آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے لیکن کچھ سر پھرے اب بھی باقی ہیں جن کا رابطہ کتابوں سے رہتا ہے۔ لوگ اب بھی کتابیں خریدتے ہیں اور پڑھتے ہیں، موبائل اسکرین پہ پڑھنا ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔ کتاب کا صفحہ پلٹنا بھی ایک رومانس ہے جسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو کتاب پڑھنے کے عادی ہوں۔ کتابوں سے رشتہ قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ کتب بینی کم ہونے کی وجہ ہمارا نظام تعلیم ہے جو صرف مخصوص نوٹس رٹنے اور گائیڈ بک تک محدود ہے۔ اساتذہ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے۔
دراصل محکمہ تعلیم میں جو اپائنٹمنٹ ہو رہے ہیں ان میں 99 فی صد اساتذہ وہی ہیں جنھوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے سے نوٹس رٹ کر اور دس سالہ امتحانی پیپر حل کرکے ڈگری لی۔ ہمارے کالج میں ایک دفعہ تین خواتین لیکچرر کا اپائنٹمنٹ ہوا۔ تینوں میرے ہی ڈپارٹمنٹ کی تھیں۔ تینوں کو پڑھانا نہیں آتا تھا۔ ایک صاحبہ کلاس میں پڑھاتے وقت دو بار اسٹوڈنٹ سے پانی منگوا کر پیتی تھیں، تینوں شرح سے پڑھ کر کلاس میں جاتی تھیں اور وہی نوٹس ان کو لکھوا دیتی تھیں جو ان کے اپنے طالب علمی کے زمانے کے تھے، ایک صاحبہ کلاس میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے آ جاتی تھیں۔
طالبات نے پرنسپل سے شکایت کی، تب پرنسپل صاحبہ نے مجھے بلا کر کہا کہ’’ لڑکیاں آپ سے پڑھنا چاہتی ہیں‘‘ میں نے کہا کہ ’’یہ خواتین جیسی بھی ہیں انھیں تنخواہیں تو برابر سے ملیں گی، پھر میں کیوں یہ فالتو کا بوجھ اٹھاؤں؟ یا تو آپ ان کا کہیں ٹرانسفر کروا دیں، پھر یہ بوجھ ہم مل کر بانٹ لیں گے‘‘ لیکن تینوں خواتین سفارشی تھیں، اس لیے ان کا ٹرانسفر نہ ہو سکا۔ میرے پاس ہم نصابی سرگرمیوں اور میگزین نکالنے کی ذمے داری تھی، ایک دن ایک صاحبہ نے مجھ سے کہا کہ میں ان کی مدد کروں اور جو سبق انھیں کلاس میں پڑھانا ہے۔
مجھے ان کی اس دیدہ دلیری پر غصہ تو بہت آیا لیکن غصہ ضبط کرتے ہوئے میں نے ان خاتون سے کہا کہ’’ آپ اگر مجھے یہ بتا دیں کہ آپ نے ماسٹرز کہاں سے کیا اور اپائنٹمنٹ کیسے ہوا؟‘‘ تو وہ بولیں کہ ماسٹرز تو انھوں نے پرائیویٹ کیا ہے، دس سالہ امتحانی پرچوں سے مدد لے کر اور اپائنٹمنٹ یوں ہوا کہ الیکشن کے زمانے میں انھوں نے کسی وزیر کا کام کیا تھا، لہٰذا انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ جیت گئے تو مجھے لیکچرر لگوا دیں گے۔ دونوں خواتین سفارشی تھیں، تیسری صاحبہ کے پاس نہ ڈکشنری تھی نہ اردو لغت۔ وہ محکمہ تعلیم کے کسی افسر کو منہ مانگی رشوت دے کر لیکچرر منتخب ہوئی تھیں۔ تینوں کو پڑھانا نہیں آتا تھا۔ اسٹاف روم میں بیٹھ کر نوٹس پڑھتی تھیں پھر جا کر کلاس میں وہی نوٹس لکھوا دیتی تھیں، البتہ تینوں خواتین پرنسپل کو تحائف دینے میں ماہر تھیں، اسی لیے ان کی کوئی ACR یعنی سالانہ خفیہ رپورٹ خراب نہیں ہوئی۔
ایک دفعہ ایک بوائز کالج میں سیکنڈ ایئر کی کلاس لینے جب گئی تو میں نے کتابیں چیک کیں تو آدھی کلاس کے پاس نصابی کتابیں نہیں تھیں، جب میں نے سختی کی تو پوری کلاس تو دوسرے دن کتابیں لے آئی لیکن دو اسٹوڈنٹس نے کہا کہ انھوں نے کتابیں نہیں خریدی ہیں کیونکہ ان کے پاس نوٹس اور گائیڈ بکس ہیں۔ طلبا و طالبات کو کتب بینی سے روکنے میں ہمارے اساتذہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ ایک بار جب میں کلاس میں اپنے بنائے ہوئے نوٹس لکھوا رہی تھی تو دو طالب علم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے تھے، میں نے وجہ پوچھی تو دونوں نے سر جھکا کر جواب دیا، ’’میم! ہمارے پاس فلاں پروفیسر کے نوٹس ہیں‘‘ میں نے باقی اسٹوڈنٹس سے پوچھا تو تقریباً ان کے پاس بھی دو پروفیسرز کے نوٹس تھے جو انھوں نے اردو بازار سے خریدے تھے۔
میں نے انھیں سمجھایا کہ اگر ساری کلاس یہی نوٹس لکھے گی تو آپ کے نمبر کم آئیں گے کیونکہ کاپیاں چیک کرنے والے اساتذہ کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ آپ کی محنت نہیں ہے بلکہ آپ نے رٹا لگایا ہے تو نمبر کم ملیں گے کیونکہ شہر کے زیادہ تر اسٹوڈنٹس کے پاس یہی نوٹس ہیں، اگر آپ لوگ میرے لکھوائے ہوئے نوٹس سے استفادہ کریں گے تو زیادہ نمبر ملنے کے امکانات ہیں۔ دوسرے دن جب میں کلاس میں گئی اور انھیں چند کتابوں کے نام بتائے تاکہ وہ ان کتابوں کو پڑھ لیں، تو اچانک ایک طالب علم نے ہاتھ کھڑا کرکے بولنے کی اجازت چاہی، میں نے اسے پاس بلایا تو اس نے ایک لفافہ نکال کر مجھے دیا، جو میرے نام تھا۔
لفافہ کھولا تو اس میں سے ایک پرچہ برآمد ہوا جس میں انھی نوٹس والے پروفیسر نے لکھا تھا ’’آپ میری روزی کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں؟‘‘ معلوم ہوا کہ طالب علم ان صاحب سے ٹیوشن پڑھتا ہے، لیکن میں نے تب بھی اسٹوڈنٹس کو قائل کیا کہ کتاب پڑھنے کے کیا فوائد ہیں۔ میں نے جن کالجوں میں پڑھایا وہاں طلبا و طالبات کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا، انھیں کتب بینی کے فوائد بتائے اور میری کوشش رائیگاں نہیں گئی۔ ہفتے میں ایک دن میں طلبا و طالبات سے ان کتابوں اور رسالوں کی بابت پوچھتی تھی جو انھوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران پڑھی ہوں۔ طلبا کی بہ نسبت طالبات زیادہ دلچسپی لیتی تھیں۔
کتابیں پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب آپ تعلیم مکمل کرکے کسی اچھی جاب کی تلاش میں نکلتے ہیں اور کسی ادارے سے آپ کو انٹرویو کال آتی ہے تو اگر آپ اخبار روزانہ پڑھتے ہیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھتے ہیں تو آپ انٹرویو میں بہت کامیاب ہوں گے کیونکہ اس کا تجربہ مجھے ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کو روزانہ اخبار پڑھنے کا عادی بنایا، رسالے اور کتابیں پڑھنے کو دیں۔ جب وہ انٹرویو دینے گیا تو بہت خوش تھا، یہ ایک گورنمنٹ کا ادارہ ہے اور اس میں صرف اور صرف میرٹ پر لوگ لیے جاتے ہیں۔
یہ انٹرویو تین الگ الگ دنوں میں ہوا اور میرا بیٹا نہ صرف یہ کہ میرٹ پر سلیکٹ ہوا بلکہ اسے دس ہزار کا اسکالر شپ بھی ملا۔ یہ بات ہے 2004 کی۔ کتابیں پڑھنے سے مطالعہ وسیع ہوتا ہے، ذہنی تناؤ میں کمی ہوتی ہے، یادداشت بہتر ہوتی ہے مطالعہ انسان کی فکری صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ کتابیں تنہائی کی بہترین ساتھی ہیں۔ مطالعہ دماغی خلیات کو متحرک رکھتا ہے جس سے بھولنے کی بیماری ڈیمنیشیا کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ کتب بینی سے نئے الفاظ اور زبان سیکھنے کی مہارت تیز ہوتی ہے۔ مطالعے سے انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی قوت میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ مطالعہ علم کا خزانہ ہے، یہ انسان کو شعور ، وسعت نظر اور مقصد حیات متعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کتابیں نسلوں کا تجربہ اور دانش کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ مطالعہ ذہن کو جلا دینے اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ یہ علم انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ مطالعہ ذہنی سکون عطا کرتا ہے۔

