غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے جاری، حماس کمانڈر سمیت۱۰؍فلسطینی شہید،۱۵؍زخمی

gaza attack d


غزہ: جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ تازہ کارروائیوں میں کم از کم ۱۰؍ فلسطینی شہید اور ۱۵؍ زخمی ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حملوں میں حماس کے ایسے کمانڈروں اور اراکین کو نشانہ بنایا گیا جو غزہ میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق نصیرات کیمپ پر اسرائیلی حملے میں ایک شخص شہید ہوا، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ نشانہ حماس کا ایک کمپنی کمانڈر تھا جو ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے میں ملوث تھا۔
اس کے قریباً آدھے گھنٹے بعد غزہ شہر کے علاقے تفاح میں ایک پولیس مرکز پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں ۱۳؍ سالہ بچی سمیت ۹؍ افراد شہید اور ۱۵؍ زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ حملے کے وقت حماس کے عسکری ونگ کے۴؍ اراکین اور پاپولر ریزسٹنس کمیٹیز کا ایک رکن موجود تھا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی کی تمام اپیلوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا اور امریکی صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کو حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی غزہ کی بندرگاہ کے قریب ایک کیفے پر اسرائیلی حملے میں ۷؍ فلسطینی شہید ہوئے تھے، جسے اسرائیلی فوج نے حماس کمانڈروں کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ۱۹؍ اگست کے حملے سے متعلق مزید تفصیلات بھی جاری کیں، جن کے مطابق غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں حماس کے نخبہ فورس سے وابستہ ۴؍ کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

متعلقہ پوسٹ