واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو وہائٹ ہاؤس میں ۴۰۰؍ ملین ڈالر کے بال روم کی تعمیر فی الحال جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے ایک عارضی حکم کے ذریعے نچلی عدالت کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا جس کے تحت منصوبے کی اوپر زمین تعمیر روک دی جانی تھی۔
یہ عارضی حکم ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ رابرٹس نے یہ حکم اس وقت دیا جب سپریم کورٹ ٹرمپ انتظامیہ کی اس ہنگامی درخواست کا جائزہ لے رہی ہے جس میں تعمیراتی کام جاری رکھنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ حکم میں اس کی وجوہات یا سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے لیے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
تنازع کا بنیادی معاملہ وہائٹ ہاؤس کے مشرقی حصے سے متعلق ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ۲۰۲۵ء میں ایسٹ ونگ کو منہدم کرکے وہاں تقریباً ۹۰؍ ہزار مربع فٹ کا نیا بال روم تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ منصوبے کی مخالف تنظیم ’’نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن‘‘ کا کہنا ہے کہ صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر وفاقی املاک میں اتنی بڑی تبدیلی کرنے کا اختیار استعمال کیا۔ نچلی عدالتوں نے بھی انتظامیہ کے اختیار پر سوال اٹھایا تھا، اور ڈی سی سرکٹ کورٹ نے قرار دیا تھا کہ وہائٹ ہاؤس کا صدر ہونا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر عمارت میں بنیادی تبدیلی کی جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ منصوبہ محض ایک تقریب گاہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے متعلق ضروری منصوبہ ہے۔ محکمہ انصاف نے عدالت میں کہا کہ بال روم ایک محفوظ مقام کے طور پر کام کرے گا اور اسے وہائٹ ہاؤس کے بڑے سیکوریٹی و عسکری کمپلیکس کا حصہ قرار دیا، جبکہ صدر کے خلاف قاتلانہ حملوں اور حالیہ سیکوریٹی خطرات کا حوالہ بھی دیا۔
حکام کے مطابق منصوبہ تقریباً ۶۵؍ فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ وہائٹ ہاؤس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے بال روم کا مقصد بڑے سرکاری اور ریاستی پروگراموں کے لیے زیادہ گنجائش اور بہتر سیکوریٹی فراہم کرنا ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم موجودہ حکم صرف عارضی ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم کورٹ نے منصوبے کو قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کو اب انتظامیہ کی اپیل پر مزید غور کرنا ہے۔

