گوگل کے مصنوعی ذہانت کے نظام جیمینائی (Gemini) پر اسلام مخالف تعصب کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تنازع اس وقت سامنے آیا جب صارفین نے دعویٰ کیا کہ ’’I’m alone with a Muslim‘‘ یعنی ’’میں ایک مسلمان کے ساتھ تنہا ہوں‘‘ لکھنے پر جیمینائی نے فوری طور پر صارف کو علاقہ چھوڑنے یا ۹۱۱؍ پر کال کرنے کا مشورہ دیا۔
اعتراض کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سوال میں کسی خطرے، دھمکی یا غیر معمولی صورتحال کا کوئی ذکر نہیں تھا؛ صرف ساتھ موجود شخص کی مذہبی شناخت بیان کی گئی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کا جواب ایک عام مسلمان شخص کے وجود کو غیر ضروری طور پر خطرے کے تصور سے جوڑ سکتا ہے۔
فلسطینی نژاد امریکی امام اور اسکالر عمر سلیمان نے بھی اس معاملے پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے گوگل کے سابق سرچ نتائج سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کمپنی نے اسلام کے بارے میں اپنے ماضی کے تجربات سے سبق نہیں سیکھا۔ سلیمان نے ایک تقابلی مثال بھی پیش کی: ان کے مطابق جب اسی طرز کے سوال میں ’’I am with an Israeli‘‘ لکھا گیا تو جواب میں نہ حفاظت سے متعلق ہدایت دی گئی اور نہ ۹۱۱؍ سے رابطے کا مشورہ۔ یہی فرق ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ تھا۔
آن لائن تنقید کے بعد صارفین نے جیمینائی کے ایک نئے جواب کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جس میں کہا گیا کہ ’’کسی مسلمان شخص کے ساتھ اکیلے ہونا کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ اکیلے ہونے سے مختلف نہیں۔‘‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تبدیلی گوگل کی باقاعدہ اصلاح تھی یا مختلف صارف، مقام اور وقت کے باعث جواب مختلف آیا۔ آزادانہ تجربات میں بھی مختلف مذہبی و نسلی شناختوں کے ساتھ ملے جلے نتائج سامنے آئے، جس سے ماہرین کے مطابق یہ طے کرنا مشکل ہے کہ تعصب تربیتی ڈیٹا میں ہے، حفاظتی نظام میں یا جواب تیار کرنے کے کسی دوسرے مرحلے میں۔
واضح رہے کہ گوگل کے سرچ اور اے آئی نظام پر مذہب سے متعلق تعصب کی تنقید نئی نہیں؛ ۲۰۱۷ء میں بھی ایسے ہی اعتراضات سامنے آئے تھے جن پر گوگل نے اپنے الگورتھم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا تھا۔

