تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی ممکنہ تیاری پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پیر کو متوقع نئی امریکی پابندیوں کا پیکیج دراصل ’ایک ہی فلم کو بار بار چلتے دیکھنے‘ کے مترادف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی جانب سے اختیار کیا جانے والا دباؤ اور مبینہ دھونس سابق امریکی حکومتوں کی پالیسی سے مختلف نہیں۔
انہوں نے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اعلان کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جو گزشتہ امریکی انتظامیہ کے ادوار میں بھی جاری رہی۔
عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے مزید اقتصادی پابندیوں کے امکان کو کسی نئی حکمت عملی کے بجائے سابقہ پالیسی کا تسلسل سمجھتا ہے۔
Iran’s Foreign Minister Abbas Araghchi said the new US sanctions package, likely to be unveiled Monday, is like watching the ‘same movie playing over and over again’.
He added that the ‘bullying’ under Trump is no different from that under previous US administrations. pic.twitter.com/gXjNoGqZIE
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 24, 2026
امریکی حکومت کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کی صورت میں ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

