اقوام متحدہ کا 81 واں سالانہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب تباہ حال غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ کیے گئے مکانوں کے ملبے کو صاف کرنے کا کام جاری تھا۔ اب تک کئی ہزار ٹن ملبہ صاف کیا جا چکا ہے مگر اب جو مزید ملبہ ہٹایا جانا ہے،اس کے نیچے بمباری سے شہید ہونے والے سیکڑوں فلسطینی خواتین، مردوں اور بچوں کی باقیات دبی ہوئی ہیں۔
یہ لاشیں کئی مہینوں سے دبی ہوئی ہیں مگر انھیں نکالنا محال تھا کیونکہ اسرائیلی بمباری مسلسل جاری تھی۔ اب بمباری میں کچھ کمی کی وجہ سے فلسطینیوں کی باقیات کو ملبے سے نکال کر قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔
یہ کیسی بے رحمی ہے کہ نہ عالمی ضمیر جاگا اور اقوام متحدہ بھی اپنے چارٹر پر عمل کرانا بھول گئی، شاید اس لیے کہ وہ سپرپاور کے چہیتے کے خلاف نہیں جا سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ عالمی ادارہ اپنے مقاصد سے ہٹ کر عالمی سپرپاور کے گھر کی لونڈی بن چکا ہے۔ یہ اس کے اشاروں پر صرف اس کے مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے۔
چھوٹے اور غریب ممالک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، اگر اسرائیل کا فلسطینیوں کے ساتھ ظلم و بربریت کرنا جائز ہے تو پھرنازی جرمنی نے یہودیوں کے ساتھ جو کیا تھا، اسے کیوں بربریت قرار دیا جاتا ہے۔ کیا حق خود اختیاری سے محروم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والا ظلم و ستم موجودہ ترقی اور تہذیب یافتہ دنیا کے منہ پر طمانچہ نہیں۔ دنیا کے سب طاقتور ملک کی شاید یہی پالیسی ہے کہ اسرائیل کو من مانی کرنے دی جائے اور اس کی بربریت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔
لگتا ہے اس وقت اس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے کہ فلسطینی ہی نہیں تمام مسلمانوں کو دبا کر رکھا جائے اور اگر وہ مزاحمت کریں تو انھیں دہشت گرد قرار دے کر تباہ کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیریوں کا ذکر کرنے پر بھارت رجب طیب اردگان اور ان کے ملک کا دشمن بن گیا ہے، مگر اردگان کو اس کی پرواہ نہیں، انھوں نے کشمیریوں کا ذکر پہلی دفعہ نہیں کیا ہے، وہ گزشتہ کئی سالوں سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں مگر دیگر ممالک ہی نہیں بعض اسلامی ممالک بھی مصلحت آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مودی نے اردگان کے اس آواز حق کے خلاف ترکیہ کے پڑوسی یونان سے رابطہ کر لیا ہے اور اس نے اسرائیل کی طرح یونان کو بھی اپنے مسلم کش اتحاد میں شامل کر لیا ہے۔ یونان کی قبرص کے سلسلے میں ترکیہ سے مخاصمت جاری ہے حالانکہ اب قبرص کا معاملہ طے ہو چکا ہے۔ یونان کو قبرص کا مغربی حصہ دے دیا گیا اور ترکیہ کا مشرقی حصے پر حق حکمرانی تسلیم کر لیا گیا ہے۔
مودی کا پاکستان دشمن ہونا سمجھ میں آتا ہے، اس لیے وہ کٹر مسلم دشمن تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کا نمایندہ ہے۔ اس کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی سب پر عیاں ہے۔ مودی اور اس کی پارٹی بی جے پی کشمیریوں کو حق خود اختیاری دینے کے خلاف ہیں کیونکہ وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہیں جوکہ سراسر غلط ہے۔
انگریزوں نے جب ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کیا تو اس میں جموں کشمیر شامل نہیں تھا کیونکہ اس وقت بھی اس خطے کی برصغیر سے جدا حیثیت تھی۔ مودی نے برسر اقتدار آ کر بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو ختم کر دیا کہ وہ خطہ اب بھارت کا حصہ ہے مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک الگ ریاست تھی جس کا نظام اور جھنڈا بھی اس کی انفرادیت کا گواہ تھا۔
انگریزوں نے اس کے عوام کو یہ حق دیا تھا کہ وہ چاہیں تو بھارت میں شامل ہو جائیں اور چاہیں تو پاکستان کا حصہ بن جائیں مگر اس وقت جموں کشمیر پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی جو کسی سے ملنا نہیں چاہتا تھا جبکہ اس کے عوام پاکستان کا حصہ بننا چاہتے تھے۔
بھارت یہ کسی طور برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا اور پھر اس کے بعد جو ہوا اس کے نتیجے میں جموں کشمیر پاکستان اور بھارت میں بٹ گیا اور اس وقت بھی وہی پرانی صورت حال برقرار ہے جبکہ جموں کشمیر کے عوام اقوام متحدہ پر اپنا موقف واضح کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک میں تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور آئندہ بھی اس مسئلے پر چوتھی جنگ کا امکان ہے۔ دونوں ممالک اسی مسئلے کی وجہ سے اپنے عوام کو خوشحال بنانے کے بجائے اپنے وسائل کو فوجی تیاریوں پر صرف کر رہے ہیں۔
اس وقت بھارت میں سخت ہندو قوم پرستوں کی حکومت قائم ہے جو پاکستان اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں وہ پاکستان کو اب اس کے آزاد ہوئے 80 برس بعد بھی تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں جبکہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف جموں کشمیر کے عوام کی آزادی کا مسئلہ ان کے تعلقات کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے جسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کر لینا چاہیے تاکہ دونوں ممالک اس اہم مسئلے کے حل ہونے کے بعد اپنے عوام کی حالت زار پر توجہ دے سکیں مگر موجودہ بھارتی حکمراں تو اب اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کو بھی بھارت میں شامل کرنے کے منصوبے بنانے لگے ہیں۔
اب وہ آزاد کشمیر کے عوام کو کھلے عام دعوت دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کا حصہ بن جائیں۔ یہ بھارتی رویہ دہشت گردی کے مترادف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سراسر خلاف ہے۔ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بھارت سے آزاد کشمیر اور پاکستان میں داخل ہونے والے دریاؤں کا پانی بھی روک کر پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ جارحانہ رویہ سراسر عالمی قوانین کے خلاف ہے مگر مودی اپنی پاکستان دشمنی میں اندھا ہو گیا ہے۔ اس کی نیتن یاہو سے دوستی صرف مسلمانوں کے خلاف ہے۔ دراصل دونوں ہی ممالک پر ملتے جلتے الزامات ہیں کہ وہ دونوں ہی فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے غاصب ہیں دونوں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے مواقع ضایع نہیں کرتے دونوں ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں اور کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔
بھارت کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے جبکہ اسرائیل فلسطینیوں کے قتل عام میں محو ہے۔ اقوام متحدہ چونکہ امریکی سامراج کے قبضے میں ہے اس لیے اسرائیل فلسطینیوں پر کتنے ہی مظالم ڈھائے اقوام متحدہ اس سے باز پرس نہیں کر سکتی۔
اقوام متحدہ کی مسلمان ملکوں سے دوغلی پالیسی اختیار کرنے کا واضح ثبوت تیمور اور جنوبی سوڈان کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرکے انھیں انڈونیشیا اور سوڈان کو کاٹ کر آزاد وطن سے نوازنا ہے مگر کشمیریوں اور فلسطینیوں کو اب 80 برس سے حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ بھارت اور اسرائیل میں غلامانہ زندگی جی رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے پر زور دیا ہے مگر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مغربی ممالک نہ پہلے کبھی سنجیدہ تھے اور نہ اب ہیں۔ اب خود بھارتی تجزیہ کار آپریشن سندور میں بھارت کی تباہی کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ مودی پاکستان کی طاقت کو نظرانداز کرکے بھارت کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں انھیں بھارت کی سلامتی اور ترقی کے لیے بالآخر پاکستان سے صلح ہی نہیں بلکہ اس کے مطالبات کو پورا کرنا ہوگا۔
بھارتی تجزیہ کار پراوین ساہنی تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ایک دو سال میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حالات تو ایسے ہی نظر آ رہے ہیں مگر مودی سے کچھ بھی بعید نہیں ہے کیونکہ وہ مسلم اور پاکستان دشمنی میں بھارت کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

