پرائمری اسکول کی بد حالی کا ویڈیو پوسٹ کرنے پر ایکٹوسٹ کے خلاف کیس درج

government primary school in Deoria


دیوریا کے ایک سرکاری اسکول کی خستہ حالی کا ویڈیو بنانے اور اسے نشر کرنے کے الزام میں اتر پردیش پولیس نے ایک نوجوان کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ بلاک ایجوکیشن آفیسر کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں نوجوان ایکٹوسٹ رجت سنگھ پر سچائی کو چھپانے اور غلط جانکاری پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

government primary school in Deoria

نوجوان ایکٹوسٹ رجت سنگھ اتر پردیش کے دیوریا میں واقع ایک سرکاری پرائمری اسکول کی خستہ حالت دکھاتے ہوئے۔ تصویر: ان کے فیس بک ویڈیو سے۔

نئی دہلی: ’اگر مجھے جیل جانا ہی ہے، تو اس کے لیے جیل جانا پسند کروں گا،‘ اتر پردیش کے نوجوان ایکٹوسٹ رجت سنگھ کا یہ کہنا تھا ۔ اپنے آبائی ضلع دیوریا کے ایک سرکاری اسکول کی خستہ حالی کا ویڈیو بنانے اور اسے نشر کرنے کے الزام میں ریاستی پولیس کی جانب سے ان کے خلاف معاملہ درج کیے جانے کے بعد سنگھ اپنے اس رخ پر قائم ہیں۔

سنیچر (22 اگست) کو دیوریا پولیس نے سنگھ کے خلاف گورابازار کے ڈمر بسوا گاؤں واقع ایک پرائمری اسکول میں بغیر اجازت داخل ہونے اور غلط جانکاری پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔

کانگریس سے نظریاتی طور پر وابستہ سنگھ حال ہی میں شروع ہوئے ’جسٹس مورچہ‘ نامی نوجوانوں کی مہم کا حصہ ہیں۔ اس کے تحت مشرقی اتر پردیش میں ’جین زی کنیکٹ یاترا‘ نکالی جا رہی ہے۔ اس یاترا کے ذریعے نوجوانوں سے متعلق مسائل، خصوصی طور پر  سرکاری تعلیم اور روزگار کی صورتحال کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ 16 اگست کو سنگھ نے ڈمر بسوا کے پرائمری اسکول کا دورہ کیا اور بعد میں اس کا ایک ویڈیو فیس بک پر اپلوڈ کیا۔ تقریباً دو منٹ کے اس ویڈیو میں مبینہ طور پر لڑکیوں کے لیے بنے ٹوٹے ہوئے ٹوائلٹ، خستہ حال عمارت اور اسکول کے احاطے میں بکھرا ہوا تعمیراتی ملبہ اور کچرا دکھائی دے رہا تھا۔

ویڈیو کے ساتھ لکھے گئے کیپشن میں کہا گیا تھا،’ہمارے بچوں کی تعلیم کی یہی حقیقت ہے۔ کیا اسی طرح بھارت ’وشو گرو‘ بنے گا؟‘

پولیس نے گورابازار کے بلاک ایجوکیشن آفیسر (بی ای او) ونئے شیل مشرا کی تحریری شکایت کے بعد کارروائی کی۔ سنگھ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 329(4) اور 353(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ دفعات مجرمانہ طور پرتجاوزات اور مختلف برادریوں یا گروہوں کے درمیان دشمنی، نفرت یا تعصب پیدا کرنے کے ارادے سے جھوٹی جانکاری یا افواہ بنانے، شائع کرنے یا نشر کرنے سے متعلق ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اتر پردیش کے کئی اضلاع میں محکمہ تعلیم کے حکام نے باہری لوگوں، جن میں یوٹیوبر اور سوشل میڈیا صارفین بھی شامل ہیں، کے سرکاری پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں میں داخل ہو کر احاطے کے اندر ویڈیو بنانے پر روک لگا دی ہے۔

ہاپوڑ، ایودھیا، بلرام پور، آگرہ، بلیا، بستی اور اعظم گڑھ سمیت کم از کم سات اضلاع میں محکمہ تعلیم کے حکام کی جانب سے ایسے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ یہ احکامات ریاست میں اسکول کے طلبہ کی جانب سے بہتر بنیادی سہولیات کے مطالبے کو لے کر کیے گئے مظاہروں اور احتجاج کے دوران سامنے آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں بی جے پی مقتدرہ ریاست کے سرکاری تعلیمی نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی سوشل میڈیا پر خستہ حال اسکول کی عمارتوں کی تصویریں شیئر کیے جانے پر تنقید کی ہے۔ اتوار کو لکھنؤ میں مڈ ڈے میل کے رسوئیوں کو اعزاز دینے کے لیے منعقد کیے گئے  ایک پروگرام میں آدتیہ ناتھ نے کہا،’کچھ لوگ خستہ حال عمارتوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ جن کے کہنے پر آپ یہ تصویریں دکھا رہے ہیں، یہ انہی لوگوں کی یادگاریں ہیں۔‘

دی وائر سے بات چیت میں سنگھ نے الزام لگایا کہ ریاستی انتظامیہ سرکاری تعلیمی اداروں کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ڈرانے دھمکانے کا سہارا لے رہی ہے۔

سنگھ نے کہا،’مجھے ایف آئی آر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر انتظامیہ کو لگتا ہے کہ ایف آئی آر درج کرکے اور ہمیں ڈرا کر اسے کوئی فائدہ ہوگا تو ایسا نہیں ہوگا۔ انتظامیہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اتنی ہی توانائی ٹوائلٹ اور چھتوں کی مرمت پر صرف کرے۔ ان ویڈیو کے ذریعے ہمارا مقصد حکومت اور انتظامیہ کی مدد کرنا ہے، تاکہ ہمارے اسکولوں کی حالت بہتر ہو سکے۔‘

پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بلاک ایجوکیشن آفیسر مشرا نے کہا کہ 16 اگست کو اتوار ہونے کی وجہ سے ڈمر بسوا کا پرائمری اسکول بند تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنگھ کسی مجاز افسر سے اجازت لیے بغیر اسکول کی چہار دیواری پھاند کر احاطے میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔

مشرا نے مزید کہا کہ اسکول کے احاطے میں ایک غیر استعمال شدہ عمارت تھی، جسے مقررہ قواعد کے مطابق پہلے ہی نیلام کرکے منہدم کیا جا چکا تھا۔ ان کے مطابق، منہدم کی گئی عمارت کا کچھ ملبہ اسکول کے احاطے کے ایک کونے میں جمع تھا اور انتظامیہ اسے ہٹانے کے عمل میں تھی۔ سنگھ کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ ملبہ مکمل طور پر ہٹا دیا گیا۔

افسر نے الزام لگایاکہ سنگھ نے محکمہ تعلیم کی ’امیج خراب‘ کرنے کے لیے جان بوجھ کر اس ملبے کو اپنے ویڈیو میں دکھایا اور سوشل میڈیا پر غلط پروپیگنڈا کیا۔ مشرا نے دعویٰ کیا کہ اسکول میں آدتیہ ناتھ حکومت کی ’آپریشن کایا کلپ‘ اسکیم کے تحت بنیادی سہولیات کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ریاست کے سرکاری پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

ایف آئی آر میں مشرا نے الزام لگایا کہ سنگھ نے اپنی ویڈیو میں ان حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا۔ شکایت میں کہا گیا ہے،’انہوں نے جان بوجھ کر ایک غلط ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اس مقصد سے پوسٹ کیا تاکہ حکومت، محکمہ اور اسکول کی امیج خراب ہو۔ یہ ان کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اسکول میں باقاعدگی سے تدریسی سرگرمیاں جاری  ہیں۔‘

تاہم، علاقے کے رہائشی سنگھ کا کہنا ہے کہ اسکول کے احاطے میں پڑا ملبہ کئی ماہ سے اسی طرح پڑا تھا۔ انہوں نے کہا،’انہوں نے ملبہ ابھی ہٹایا ہے۔ وہ چار پانچ ماہ سے وہاں پڑا ہوا تھا۔ جب ہم نے اپنی مہم شروع کی تو میں نے سوچا کہ اس کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیوں نہ کیا جائے۔ اسی لیے ہم اس اسکول میں گئے۔‘

سنگھ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ترقیاتی دعووں کے برعکس اتر پردیش کے سرکاری اسکول، خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں واقع اسکول، اب بھی شدید  بے توجہی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا،’میں نصاب اور سلیبس کی بات تک نہیں کروں گا، صرف بنیادی سہولیات اور عمارت کی بات کرتے ہیں۔ کتنے اسکولوں میں مناسب فرش، باتھ روم، ٹوائلٹ، پنکھے اور ایسی چھتیں ہیں جن سے پانی نہیں ٹپکتا؟‘

وہیں، ریاست کے بنیادی تعلیم کے وزیر سندیپ سنگھ نے بھی اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ کا ساتھ دیا۔ اتوار کو لکھنؤ میں اسی پروگرام میں سندیپ سنگھ نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’کچھ لوگ صرف منفی چیزیں تلاش کرنے اور ہمارے محکمہ میں کام کرنے والے تمام لوگوں کا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

وزیر نے دعویٰ کیا کہ 2017 سے پہلے اتر پردیش کا بنیادی تعلیم کا محکمہ ’منفی بحثوں‘ میں گھرا ہوا تھا اور ’مکمل طور پر بدحالی‘ کا شکار تھا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد وسیع پیمانے پر اصلاحات کی گئیں اور اس شعبے کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا گیا۔

انہوں نے کہا،’کچھ لوگوں کو ترقی، مثبت کام اور جس مضبوطی کے ساتھ بنیادی تعلیم کا محکمہ آگے بڑھ رہا ہے، وہ پسند نہیں ہے۔‘

آدتیہ ناتھ نے بھی سابقہ حکومتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2017 سے پہلے سرکاری پرائمری اسکولوں کی حالت ’اجاڑ‘ جیسی تھی اور وہاں مایوسی کا ماحول تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن کایا کلپ‘ اور ’پروجیکٹ النکار‘ جیسی اسکیموں کے ذریعے پرانی اور خستہ حال عمارتوں کو منظم طریقے سے جدید سہولیات سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ’پروجیکٹ النکار‘ کے تحت ثانوی اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

فوجداری معاملے کا سامنا کر رہے رجت سنگھ نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں واقعی مکمل تبدیلی آ چکی ہے تو انتظامیہ کو میڈیا کی کوریج پر پابندی لگانے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے۔

سنگھ کہتے ہیں،’اگر انہوں نے اتنا اچھا کام کیا ہے تو انہیں یوٹیوبرز کو اسکولوں میں بلانا چاہیے۔‘

ایک سرکاری بیان میں سنگھ نے پولیس اور ضلع انتظامیہ سے سوال کیا کہ کسی سرکاری اسکول کی خراب حالت کو ریکارڈ کرنا کس طرح برادریوں کے درمیان دشمنی بھڑکانے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جن بی این ایس دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان کے تحت کسی سرکاری اسکول کے احاطے میں داخل ہونا سنگین جرم کیسے بن گیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا مقصد کسی سرکاری ادارے یا شخص کی امیج خراب کرنا نہیں تھا، بلکہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو دستیاب بنیادی سہولیات کی زمینی حقیقت سامنے لانا تھا۔

سنگھ نے کہا،’اگر کسی اسکول میں کچرا، ملبہ، ٹوٹی پھوٹی عمارت یا بنیادی سہولیات کی کمی ہے تو اس کا جواب ان مسائل کو دور کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں دکھانے والوں کے خلاف معاملے درج کرنا۔‘

دی وائر نے شکایت کرنے والے افسر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ