آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے "عمران خان رہائی فورس” کی تشکیل پر جواب طلب کر لیا

IMG 20260401 WA1983


اسلام آباد (1 اپریل 2026): وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے "عمران خان رہائی فورس” کی تشکیل کے معاملے پر 10 دن کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے تجویز کردہ فورس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے کوئی فورس نہیں بننی چاہیے اور قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا صوبائی کابینہ نے ایسی فورس بنانے کی اجازت دی تھی؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب میں کہا کہ کابینہ نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے بھی کہا کہ وہ یقینی بنائے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فروری میں "عمران خان رہائی فورس” کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن جدوجہد بتایا گیا تھا۔ کے پی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فورس کی رجسٹریشن جاری ہے اور ایک لاکھ کارکنوں کے رجسٹرڈ ہونے پر حلف اٹھایا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ