ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

IMG 20260401 WA1982


واشنگٹن (1 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی (ceasefire) کی درخواست کی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ درخواست صرف اس وقت غور کے قابل ہو گی جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا: "ایران کے نئے رجیم کے صدر، جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں، نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ہم اس پر غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی، آزاد اور محفوظ ہو جائے گی۔ اس سے پہلے ہم ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس دھکیل رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابق رہنماؤں کے مقابلے میں "کم رادیکلائزڈ اور زیادہ ذہین” قرار دیا۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک آبنائے ہرمز (جو عالمی تیل کی سپلائی کا اہم راستہ ہے) کھلا نہیں ہو گا، امریکہ اپنے فوجی آپریشنز جاری رکھے گا۔ ایران کی جانب سے اب تک اس دعوے کی تردید کی گئی ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فوجی کارروائیوں کا ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ