کراچی کے تاریخی علاقے کھارادر میں واقع تقریباً پونے دو صدی پرانی پولیس چوکی، جو نوآبادیاتی دور کی اہم یادگار سمجھی جاتی ہے، بحالی کے بعد عوامی لائبریری میں تبدیل کر دی گئی ہے۔
تقریباً 65 مربع گز پر قائم ریتلے پتھر کی یہ عمارت ڈھلوانی سبز لکڑی کی چھت اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
1926 کے برطانوی نقشوں میں بھی اس چوکی کا ذکر موجود ہے جبکہ بحالی کے دوران 1871 کی تاریخ والی ایک مٹی کی ٹائل بھی دریافت ہوئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمارت کے بعض حصے پہلے کے اندازوں سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔
بحالی سے قبل یہ عمارت تجاوزات، کچرے اور غیر ضروری تعمیرات کی وجہ سے اپنی اصل شناخت کھو چکی تھی۔ منصوبے کے دوران اضافی دیواریں، سیمنٹ کی تہیں اور پلاسٹر ہٹا کر اسے دوبارہ اصل حالت میں بحال کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منصوبے کی نگران معروف معمار ڈاکٹر یاسمین لاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد تاریخی پولیس چوکی کو لائبریری میں تبدیل کر کے مقامی کمیونٹی کے حوالے کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ صرف ایک عمارت کی بحالی نہیں بلکہ کراچی کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔‘ اس کے ساتھ سبزہ، درخت اور عوامی بیٹھک بھی بنائی گئی تاکہ یہ جگہ مقامی آبادی کے لیے ایک فعال سماجی مقام بن سکے۔
لائبریری کی دیکھ بھال کرنے والے آصف نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب یہ جگہ کچرے کا ڈھیر بن چکی تھی۔
انہوں نے کہا: ’پہلے یہاں تجاوزات تھیں اور لوگ کچرا پھینکتے تھے، لیکن اب بچے یہاں آ کر کتابیں پڑھتے ہیں۔ لائبریری روزانہ صبح سے رات تک کھلی رہتی ہے، حتیٰ کہ اتوار اور عید کے دن بھی۔
آصف کے مطابق منصوبے کے تحت بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے زیرِ زمین ریچارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے، جس سے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ کم ہوا اور محلے کا ماحول بھی بہتر ہو گیا۔
مقامی رہائشی محمد فاروق نے بتایا کہ لائبریری بننے سے علاقے کے لوگوں، خصوصاً بچوں کو مطالعے کے لیے ایک مناسب جگہ میسر آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے کتابیں اور مطالعاتی مواد خریدنا پڑتا تھا، لیکن اب یہاں مفت دستیاب ہے۔ یہ جگہ صرف لائبریری نہیں بلکہ علاقے کے لوگوں کے لیے ایک پرسکون عوامی مقام بھی بن گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بچپن میں یہ عمارت ٹریفک پولیس چوکی کے طور پر استعمال ہوتی تھی، لیکن بند ہونے کے بعد یہاں تجاوزات اور کچرا جمع ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق بحالی کے بعد نہ صرف تاریخی عمارت محفوظ ہوئی بلکہ پورے علاقے کی خوبصورتی اور جائیدادوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق کھارادر پولیس چوکی کراچی کے نوآبادیاتی دور کے تعمیراتی ورثے اور شہر کی انتظامی تاریخ کی ایک اہم علامت ہے، جس کی بحالی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

