پمز چلڈرن ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے جاں بحق

images 9 19


اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک نومولود کو ہسپتال کے عملے نے بروقت بچا لیا۔
واقعہ صبح پونے سات بجے پیش آیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ شارٹ سرکٹنگ کے باعث لگی، تاہم حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔ فارنزک ٹیم جائے حادثہ کا معائنہ کر رہی ہے اور شارٹ سرکٹنگ یا ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے سمیت مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نرسری میں موجود آکسیجن لائنز، سلنڈرز اور دیگر سامان کے باعث آگ نہایت تیزی سے پھیلی۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں بعض کی عمر صرف چند گھنٹے جبکہ بعض کی محض ایک دن تھی۔ زیادہ تر اموات دم گھٹنے اور پلاسٹک جلنے سے پیدا ہونے والے دھویں کے باعث ہوئیں۔
تقریباً 6 بچوں کی میتیں شناخت کے بعد والدین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی میتیں بھی ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد والدین کے سپرد کی جا رہی ہیں۔ واقعے کے وقت موجود ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل عملہ اور نرسری کے قریب موجود مائیں محفوظ رہیں۔
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وائس چانسلر کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے بھی ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں الگ کمیٹی قائم کر دی۔ وزیراعظم نے 24 گھنٹوں میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، جو اطلاع ملتے ہی جناح کنونشن سینٹر سے فوری طور پر جائے حادثہ پہنچے، نے کہا: "میں نے خود جائے حادثہ کا معائنہ کیا، فارنزک ماہرین واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر پمز انتظامیہ کی کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوئی تو انتہائی سخت کارروائی ہوگی، کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔ یہ انتہائی افسوسناک، دردناک اور بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔”
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور سیکرٹری صحت موقع پر موجود ہیں اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ وزیراعظم کو واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ اور صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

متعلقہ پوسٹ