اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں سوڈان اور غزہ پٹی میں قحط کی تصدیق کو عالمی غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے ایک ’’شرمناک سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں نہ صرف دوسری جنگِ عظیم کے بعد مسلح تنازعات کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی بلکہ عالمی سطح پر بھوک بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جبکہ کم از کم ۲۶ کروڑ ۶۰ لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خوراک کے شدید بحران سے دوچار ۱۳ اہم ترین علاقوں میں سے ۱۲ میں تشدد بدستور بھوک کی بنیادی وجہ ہے۔
عالمی غذائی پروگرام کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاؤ نے جنگوں اور غذائی قلت کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا، ’’آبنائے ہرمز میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کا مطلب سوڈان کے ایک بچے کیلئے روزانہ ایک کھانا کم ہونا ہو سکتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق سوڈان میں فروری کے بعد بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں تقریباً ۴۰ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
تین اہم بحری راستوں کا بحران
اسکاؤ نے آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور بحیرۂ اسود پر مشتمل ’’تین اہم بحری راستوں کے بحران‘‘ کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں پابندیوں سے کھاد کی دستیابی میں شدید کمی آئی ہے، حالانکہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں ۳۶ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آبنائے استنبول کے ذریعے اناج کی ترسیل میں گزشتہ سال کے مقابلے ۴۰ فیصد کمی آئی ہے، جس سے صومالیہ جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ غطریس نے کھاد لے جانے والے بحری جہازوں کی غیر جانب دارانہ تصدیق و رجسٹریشن پر مبنی محدود مدت کا اعتماد سازی اقدام تجویز کیا، مگر واضح کیا کہ یہ بحری آمدورفت کے حقوق کی مکمل بحالی کا متبادل نہیں۔
خوراک کے نظام پر منظم حملے
ایکشن اگینسٹ ہنگر کی چیف ایگزیکٹو پیرین بینوا نے بتایا کہ اپریل ۲۰۲۳ء سے سوڈان میں غذائی نظام پر ۹۰۰ سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جن میں بازاروں پر بمباری اور مویشیوں کی لوٹ مار شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان میں عورت ہونا بھوک کا شکار ہونے کے امکان کا اہم اشارہ بن چکا ہے، اور خوراک تک رسائی ختم ہونے کے صرف تین ہفتوں میں بچے اعضا کی ناکامی اور شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔
غطریس نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قحط کے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات کرے: ’’ہم قحط یا تباہ کن حالات کی باضابطہ تصدیق کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے قرارداد ۲۴۱۷ پر مکمل عمل درآمد، کھیتوں، بندرگاہوں اور خوراک ذخیرہ کرنے کی مارکیٹوں کے تحفظ، اور امداد کی رسائی روکنے والوں پر پابندیوں کی تجویز دی۔ اسکاؤ نے غزہ میں ’’امید کی ہلکی سی کرن‘‘ کا ذکر کیا، مگر خبردار کیا کہ افغانستان میں فنڈز کی کمی سے عالمی غذائی پروگرام غذائی قلت کے شکار ہر سات بچوں میں سے چھ کو امداد فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

