فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: کھلاڑی حراست میں، ریفریز ملک بدر — امریکی امیگریشن پالیسیوں پر عالمی تنقید


فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا آغاز تنازعات کے سائے میں ہوا۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل ہی کئی کھلاڑیوں، ریفریز، حکام اور شائقین کو امریکی سرحدوں پر ویزا تاخیر، طویل پوچھ گچھ اور داخلے سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
سب سے نمایاں واقعہ عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین کا رہا جنہیں شکاگو کے اوہیئر ایئرپورٹ پر سات گھنٹے حراست میں رکھا گیا، جبکہ عراقی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو دس گھنٹے بعد داخلے سے مکمل انکار کر دیا گیا۔
صومالیہ کے فیفا ریفری عمر عبدالقادر آرتان کو میامی ایئرپورٹ پر گیارہ گھنٹے روکنے کے بعد استنبول واپس بھیج دیا گیا۔ فیفا نے تصدیق کی کہ وہ اب ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
ایران کے کھلاڑیوں کو ویزے تو ملے مگر پہلے میچ سے چند روز قبل، اور ٹیم کو تربیتی بیس ایریزونا سے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کرنا پڑی۔ فیڈریشن کے صدر سمیت درجنوں عملے کو ویزے نہیں ملے اور ایران کے تینوں گروپ میچوں کے ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے۔
سینیگال، ازبکستان، مراکش اور جنوبی افریقہ کے وفود کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق انگلش اسٹرائیکر ایان رائٹ نے اسے "افراتفری کا ورلڈ کپ” قرار دیا، جبکہ کینیڈا کے برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ نے ریفری آرتان کو وینکوور میں میچز آفیشیٹ کرنے کی دعوت دے دی۔
یہ تمام واقعات صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے پس منظر میں رونما ہوئے، جن پر دنیا بھر میں شدید تنقید جاری ہے۔

متعلقہ پوسٹ