امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف۱۰۰؍ دن باقی رہ گئے ہیں اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایسے رائے عامہ کے جائزوں کا سامنا ہے جن کے مطابق وہ ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کی صدر ٹرمپ کی صدارت کے لیے اہمیت غیرمعمولی ہے۔ اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے طاقتور پارلیمانی کمیٹیوں اور طلبی کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو آئندہ دو برس تک مختلف تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور صدر ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔
امریکی انتخابی تجزیاتی ویب سائٹ ’ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر‘ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات۵۹؍ فیصد ہیں، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کو۵۳؍ کے مقابلے میں۴۷؍ نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ بڑھتی مہنگائی، چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرتی پٹرول کی قیمتیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ نے ریپبلکن کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف۳۶؍ فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے خوراک، پٹرول، رہائش اور صحت کی سہولتوں پر مرکوز انتخابی مہم کا اعلان کیا ہے، جبکہ ریپبلکن رہنما سرحدی حفاظت اور ٹیکس میں کمی کو نمایاں کریں گے۔ نئی حلقہ بندیوں سے ریپبلکن کو پانچ سے۱۲؍ نشستوں کا ممکنہ فائدہ اور مالی برتری بھی حاصل ہے، تاہم مجموعی طور پر مقابلہ سخت اور نتائج غیریقینی ہیں۔

