نئی دہلی: نیپال میں دریائے بھوٹے کوسی میں بدھ کو آنے والے اچانک تباہ کن سیلاب نے نوواکوٹ اور دھاڈنگ اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے بعد بھارتی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
بھارتی حکام نے نیپال-چین سرحد کے قریب مشتبہ گلیشیئل جھیل پھٹنے (GLOF) کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کی، جس میں خبردار کیا گیا کہ سیلابی لہر دریائے گنڈک کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
بہار میں چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ مشرقی و مغربی چمپارن، گوپال گنج اور مظفرپور جیسے اضلاع میں رہائشیوں کو نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے بات کر کے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا، اور NDRF کو متحرک کیا جا رہا ہے۔
اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مہاراج گنج اور کشی نگر کے حکام کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق سیلاب سے کم از کم 384 مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 291 غیر ملکی (بشمول 105 بھارتی شہری) اور 93 نیپالی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سیلابی پانی تبت کی جانب سے سرحد پار کر کے آیا۔

