12 نومبر 1923 کو امرتسر شہر مشرقی پنجاب میں جنم لینے والے احمد راہی نے جب 1940 کے لگ بھگ شعور و نوجوانی کی عمر میں قدم رکھا تو وہ دور ایسا تھا کہ جب یہ فقرہ اکثر محفلوں میں دہرایا جاتا کہ جو نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ترقی پسند نظریات سے عدم واقفیت رکھتا ہے، لازم ہے کہ اس نوجوان کا دماغی چیک اپ کرایا جائے چنانچہ احمد راہی ابھی F.A کے درجے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ انھوں نے قلم سے اپنا ناتا قائم کر لیا۔ جس دور کا ہم ذکر کر رہے ہیں یعنی 1940 کا تو وہ دور بڑا ہی ہنگامہ پرور دور تھا۔ برصغیر کی آزادی و قیام پاکستان کے لیے جدوجہد اپنے نقطہ عروج پر تھی اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی۔
اب برصغیر کی آزادی و قیام پاکستان زیادہ دور کی بات نہیں تھی۔ منٹو پارک لاہور میں قرارداد پاکستان 23 مارچ 1940 کو پاس ہو چکی تھی ان تمام حالات میں جب نوجوان احمد راہی نے اپنے تخلیقی عمل کا آغاز کیا تو ابتدا میں انھوں نے انگریزی ادب میں تحریر کردہ چند افسانوں کے تراجم بھی کیے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے افسانہ نگاری بھی شروع کر دی جب کہ بعدازاں احمد راہی نے شاعری کا آغاز بھی کر دیا۔ یہ ضرور تھا کہ اس وقت وہ کارل مارکس کے ترقی پسند نظریات سے نہ صرف روشناس ہو چکے تھے بلکہ وہ ان ترقی پسند نظریات کو اپنا بھی چکے تھے۔ وہ اشتراکی و ترقی پسندوں کی محافل میں بھی لازمی شرکت کرتے۔
اس سے یہ ہوا کہ احمد راہی کی مارکسی تعلیم و تربیت بھی ہوتی رہی۔ خواجہ عبدالعزیز کے فرزند احمد راہی خوش قسمت رہے کہ جب انھوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا تو انھیں ممتاز کالم نویس و ادیب حمید اختر کا ساتھ نصیب ہوا۔ چنانچہ حمید اختر کے ساتھ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ترجمان ہفت روزہ اخبار وطن میں بحیثیت نائب مدیر صحافتی ذمے داریاں ادا کرتے رہے۔ اس ہفت روزہ اخبار وطن کے مدیر اعلیٰ حمید اختر تھے جب کہ جریدہ سویرا کے مدیر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ احمد راہی نے اپنا صحافتی سفر جاری رکھتے ہوئے نیا زمانہ، اپنا وطن، سحر کی ادارت کے فرائض بھی بحسن خوبی ادا کیے جب کہ بعدازاں خود ایک رسالہ محور بھی جاری کیا۔
یہ 1946 کا زمانہ تھا کہ جب احمد راہی نے امرتسر میں ایک ادبی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ یہ کانفرنس رنجیت سنگھ ہال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں برصغیر کے نامور ترین ادبا و شاعر حضرات نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں بمبئی سے ممتاز ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی خصوصی طور سے امرتسر تشریف لائے اور اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں ایک اجلاس کی صدارت نامور ادیب راجندر سنگھ بیدی نے جب کہ مشاعرے کی صدارت محترم باری علیگ نے کی۔ یہ کانفرنس بے حد کامیاب رہی۔ یہ کانفرنس ادبی حوالے سے امرتسر کی تاریخ ساز کانفرنس کا درجہ رکھتی ہے۔ جب یہ کانفرنس منعقد ہوئی تو احمد راہی کی عمر عزیز اس وقت فقط 23 برس تھی، گویا اس قدر کم عمری کے باوجود انھوں نے اس کانفرنس کا انعقاد کرکے ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔
البتہ 1947 میں قیام پاکستان کے وقت وہ لاہور آ گئے اور وہاں پر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1952 میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی تو انھیں مالی امور کی ذمے داریاں سونپ دی گئیں گویا وہ فنانس سیکریٹری منتخب ہو گئے۔ ان کے اردو مجموعے رُت آئے، رُت جائے اور رگ جاناں ہیں جب کہ انھوں نے پنجابی زبان میں بھی شاعری کی اور ترنجن ان کی پنجابی زبان میں چھپنے والی کتاب کا نام ہے۔
اس کتاب کے چھپنے پر بہت سارے ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ احمد راہی ایک ہنس مکھ انسان تھے اور ہر بات میں ہنسی کا پہلو نکال لیا کرتے تھے۔ انھوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے بھی کام کیا اور خوب کیا بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ جوکام فلم انڈسٹری کے لیے انھوں نے کیا وہ شاید کوئی اور نہ کر پاتا۔ انھوں نے پنجاب و سندھ کی لوک داستانوں کو فلمی انداز میں قلم بند کیا اور اس کام میں مشکل امر یہ تھا کہ آج سے ڈھائی تین سو برس قبل بولے جانے والے الفاظ پیش کیے تھے۔ انھوں نے ان الفاظ کو اس قدر خوبصورتی سے لکھا کہ وہ الفاظ فلمی انداز میں فلم بینوں کو بہت پسند آئے۔ مثال اگر پیش کریں تو لوک داستان سسی پنوں کا تعلق اگرچہ سندھ سے تھا لیکن احمد راہی نے کمال مہارت سے اس لوک داستان کو پنجابی زبان میں پیش کیا۔ اس فلم کا ایک گیت آج بھی ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے جس کے بول ہیں ۔
جدوں تیری دنیا توں پیار ٹُر جائے گا
دس فیر دنیا تے کیہہ رہ جائے گا
جب کہ پنجاب کی لوک داستان مرزا صاحباں کو فلمی انداز میں لکھا اور اس فلم کے گیت بھی لکھے جوکہ امر گیت کہلاتے ہیں۔ مراد بلوچ لوک داستان کو خوبصورتی سے پنجابی فلم کے لیے لکھا، البتہ ایک اور شاہکار فلم کا تذکرہ بھی ضروری ہے وہ ہے پنجاب کی مشہور داستان ہیر رانجھا۔ اس لوک داستان کو اسی نام سے فلمی انداز میں لکھا۔ یہ ایک سدا بہار فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے گیت، موسیقی، اداکاروں کی اداکاری، میڈم نور جہاں کی آواز میں گائے ہوئے تمام گیت آج بھی روز اول کی طرح پسند کیے جاتے ہیں جوکہ احمد راہی نے تحریر کیے تھے۔ حکومت پاکستان نے 1997 میں انھیں تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا جب کہ نگار ایوارڈ، مصور ایوارڈ، گریجویٹ ایوارڈ بھی انھوں نے وصول کیے۔ البتہ 2 ستمبر 2002 میں انھوں نے78 برس، دو ماہ 20 یوم کی عمر میں وفات پائی۔
2 ستمبر 2026 کو ان کی 24 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ پوری عمر افلاس، جہالت، سماجی جبر کے خلاف لڑتے رہے اور لڑتے رہنے کا درس دیتے رہے۔ اس لڑائی کی ضرورت آج بھی ہے اور جب تک جبر ہے اس لڑائی کی ضرورت رہے گی۔

