ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈیفنس میں مبینہ با اثر خاتون کا بہن بھائی پر تشدد سے متعلق متاثرہ خاندان کے خلاف 22 اے اور ضمانت کی درخواست کی سماعت سماعت ملتوی کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈیفنس میں مبینہ با اثر خاتون کا بہن بھائی پر تشدد سے متعلق متاثرہ خاندان کے خلاف 22 اے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا معاملہ ہوا تھا؟ جس پر نور العین نے کہا کہ خاتون مریم مینٹیننس کے نام پر ہمیشہ تنگ کرتی تھیں۔ مینٹیننس ہم خود کرواتے تھے پھر بھی بار بار پیسے طلب کیے جاتے تھے۔ وقوعہ والے روز بھی پارکنگ کا بہانہ بنا کر جھگڑا کیا گیا۔ پولیس نے ہماری درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ تشدد بھی ہم پر کیا گیا اور مقدمہ بھی ہم پر ہی درج کیا گیا، پولیس سے مقدمہ اندراج کے لیے رجوع کے باوجود پولیس بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کر رہی۔ متاثرین تشدد اور مقدمے کے بعد شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
وکیل نے مؤقف دیا کہ درخواست گزاروں پر تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ اندراج کا حکم دیا جائے اور درخواست گزاروں کو تحفظ فراہم دیا جائے۔
عدالت میں مریم علی کی جانب وکیل نے وکالت نامہ داخل کر دیا۔ مریم علی کے وکیل کو کاپیاں سپلائی کر دی گئیں۔ مریم کے وکیل نے موقف دیا کہ مقدمے کی تیاری کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔
عدالت نے 22 اے اور ضمانت کی درخواست پر سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
خاتون سیدہ نور العین نے مقدمہ درج اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مریم علی رضا اور پولیس اہلکاروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب، سیشن عدالت جنوبی نے خاتون کی جانب سے درج کروائے جانے والے مقدمے میں حمیرا نامی خاتون کی عبوری ضمانت کی سماعت کی۔ حمیرا تشدد کا نشانہ بننے والے بھائی بہن کی والدہ ہیں۔
عدالت نے مدعیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ملزمہ کی عبوری ضمانت میں 8 ستمبر تک توسیع کر دی۔ با اثر خاتون مریم علی نے فیملی پر درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا۔
Source link

