ایپل کو ایپ ڈویلپرز کی جانب سے ایپ ٹریکنگ کی پالیسیوں کے خلاف لندن میں 2.7 ارب ڈالر کے مقدمے کا سامنا ہے۔
آئی فون بنانے والی کمپنی پر الزام عائد ہے کہ اس نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی ایپس پر غیر منصفانہ طور پر زیادہ پابندیاں عائد کیں۔
یہ مقدمہ جمعرات کو لندن کے کمپیٹیشن اپیل ٹریبونل میں دائر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایپل کے ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی فیچر پر کئی برس سے جاری ریگولیٹری جانچ پڑتال کے بعد سامنے آئی، جسے 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
ایپل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیچر اس لیے متعارف کرایا تھا کہ صارفین فیصلہ کر سکیں کہ آیا ایپس کو دیگر کمپنیوں کی ایپس اور ویب سائٹس پر ان کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تاہم، ایپل کے خلاف نیا مقدمہ دائر کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے تھرڈ پارٹی ایپ ڈویلپرز پر ایپل کی اپنی سروسز کے مقابلے میں زیادہ سخت تقاضے عائد کیے گئے، جس سے ایپل کے اشتہاری نظام کو مسابقتی فائدہ حاصل ہوا۔
برطانیہ کی کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی کی سابق سینیئر عہدے دار اور اس مقدمے کی قیادت کرنے والی این پاپ نے کہا کہ ایپل کی پالیسی نے ’ایسی کمپنیوں کو بہت نمایاں نقصان پہنچایا جو بطور گیٹ کیپر ایپل پر انحصار کرتی ہیں۔‘
پاپ نے ایک بیان میں کہا ’یہ کارروائی ایپل پر انحصار کرنے والی برطانوی کمپنیوں کے حقوق کے تحفظ، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ ایپل کے قوانین منصفانہ ہوں اور ان نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے جو برطانوی کمپنیوں کو اٹھانا پڑے ہیں۔‘
ایپل نے کہا کہ اس کا ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی فیچر ’صارفین کو یہ کنٹرول کرنے کا آسان طریقہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا کہ آیا ایپس کو ان کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کی اجازت حاصل ہے یا نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمپنی نے مزید کہا ’اس پر تمام ڈویلپرز کی طرح بالکل وہی تقاضے لاگو ہوتے ہیں۔‘
ایپل کے ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی فیچر کی یورپ بھر میں تحقیقات ہوتی رہی ہیں، بالخصوص جرمنی میں، جہاں ایپل نے گذشتہ ماہ ان قوانین میں تبدیلیوں پر اتفاق کیا تھا جو ایپ ڈویلپرز کو ہدفی اشتہارات کے لیے ذاتی ڈیٹا استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔
جرمنی کے مسابقتی ادارے نے ایپل پر اپنی طاقت کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے علاوہ پبلشرز، اشتہاری اداروں اور ایپ ڈویلپرز نے بھی اس ٹول پر تنقید کی کیونکہ ان کے کاروباری ماڈلز اشتہارات کے لیے صارفین کی سرگرمیوں کی ٹریکنگ پر انحصار کرتے ہیں۔
فرانس، اٹلی، پولینڈ اور دیگر ممالک کے ریگولیٹرز نے بھی ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی کے نظام کی تحقیقات کی ہیں۔

