پناہ کا الٹرا پروسیسڈ مصنوعات سے متعلق حکومت سے بڑا مطالبہ

upf1788532165 0



پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے تھنک ٹینک نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ مصنوعات (جن میں چینی، سوڈیم اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہو) پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبل کے نفاذ کا عمل تیز کیا جائے اس اقدام سے صارفین کو ایسی مصنوعات کی فوری شناخت کرنے میں مدد ملے گی جو صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں اور انہیں زیادہ باخبر اور صحت مند غذائی انتخاب کرنے میں سہولت حاصل ہوگی۔

یہ مطالبہ پناہ کے اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک کے پانچویں اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت پناہ کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمان کیانی نے کی۔

اجلاس میں قومی و بین الاقوامی ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان میں دل کی بیماریوں، ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈیز) کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور غیر صحت بخش غذائی ماحول سے نمٹنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

میجر جنرل (ر) مسعود الرحمان کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کو ان غذائی مصنوعات کے بارے میں واضح اور قابلِ فہم معلومات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو وہ خریدتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صارفین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنے کے لیے ماہرین سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ آیا کسی مصنوعات میں چینی، نمک یا غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار زیادہ ہے۔ پیکیج کے سامنے والے حصے پر واضح وارننگ لیبل یہ معلومات فوری طور پر فراہم کر سکتا ہے اور لوگوں کو باخبر غذائی انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ پاکستان کو ان ممالک کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے جنہوں نے پہلے ہی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز متعارف کروا دیے ہیں۔شواہد اور بین الاقوامی تجربات دستیاب ہیں۔ غیر ضروری تاخیر کا کوئی جواز نہیں، جبکہ خواتین اور بچے مسلسل غیر صحت بخش غذاوٴں کے سامنے آ رہے ہیں، جس سے ان کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کاہ کہ پاکستان کو اپنے عوام، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو غیر صحت بخش غذائی ماحول سے محفوظ رکھنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں اجلاس کے دوران شرکا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ غیر صحت بخش غذاوٴں، بالخصوص چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی زیادہ مقدار رکھنے والی الٹرا پروسیسڈ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی دستیابی اور استعمال، غذا سے متعلق غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈیز) کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ لازمی ایف او پی ڈبلیو ایل صارفین کو تشویش کا باعث بننے والے غذائی اجزاء کی زیادہ مقدار رکھنے والی مصنوعات کی شناخت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دے سکتے ہیں۔

پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ وزارتِ قومی صحت خدمات نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلے ہی شواہد پر مبنی تجویز پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو جمع کروا دی ہے۔ اس تجویز کو جمع کروائے ہوئے اب دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم یہ اب بھی زیرِ غور ہے، جبکہ لوگ غیر صحت بخش غذاوٴں سے وابستہ صحت کے خطرات سے مسلسل دوچار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ  تھنک ٹینک نے اس لیے پاکستان میں لازمی ایف او پی ڈبلیو ایل قومی معیارات کے فوری نفاذ اور عملی اطلاق کی پْرزور سفارش کی، تاکہ وارننگ لیبلز واضح، نمایاں اور صارفین کے لیے آسانی سے قابلِ فہم ہوں شرکا نے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھاٹی اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دیا کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھیں، لازمی ایف او پی ڈبلیو ایلزکو حقیقت کا روپ دیں اور پاکستان میں صحت مند غذائی ماحول کے قیام کے لیے درکار کوششوں کو مزید مضبوط کریں۔

پناہ نے حکومت، ماہرینِ صحت، محققین، علمائے کرام، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر موٴثر، جامع اور شواہد پر مبنی قومی ایف او پی ڈبلیو ایل معیارات اور دیگر ایسے اقدامات کے نفاذ میں تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا جو پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈیز) کی روک تھام اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ