اسلام آباد: وفاقی وزیر انسانی حقوق کا نوشکی اور کراچی کے دردناک واقعات کا سخت نوٹس

images 8 23


وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 9 سالہ بچی سے زیادتی و قتل اور کراچی کے علاقے گزری میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔  دونوں واقعات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وزیر نے آئی جی بلوچستان اور آئی جی سندھ کو الگ الگ مراسلہ جات جاری کیے ہیں، جن میں قانون کے مطابق مکمل، جامع اور ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
واقعات کی تفصیل
نوشکی: 9 سالہ بچی سے زیادتی و قتل
ضلع نوشکی کے علاقہ احمد وال میں ایک 8 سے 9 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔  پولیس کے مطابق واقعے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جبکہ تھانہ احمد وال میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔  ابتدائی کارروائی میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
کراچی: گزری میں خاتون پر تیزاب حملہ
کراچی کے علاقے اپر گزری (کلفٹن) میں گزشتہ روز ایک گھریلو ملازمہ ممتاز اسماعیل (35) پر نامعلوم ملزم نے موٹر سائیکل پر آکر تیزاب پھینک دیا، جس سے اس کے چہرے، ہاتھوں اور اوپری جسم پر شدید جلنے کے زخم آئے۔  متاثرہ خاتون کو ہسپتال داخل کیا گیا ہے اور تھانہ کلفٹن میں اس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق نے دونوں مراسلہ جات میں مندرجہ ذیل ہدایات جاری کی ہیں:
واقعات کی حساسیت کے پیش نظر انصاف کی فراہمی کے لیے تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر کی جائیں۔�
قانون کے مطابق فوری اور مناسب کارروائی کی جائے۔
متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
دونوں واقعات کی پیش رفت پر جامع رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔
کراچی تیزاب حملے پر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجر نے بھی سخت نوٹس لیا ہے؛ وزیراعلیٰ نے متاثرہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور مشتبہ کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔  اسی طرح نوشکی واقعے پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لنگاو نے بھی نوٹس لے کر نوشکی کے ایس پی اور ڈی آئی جی رخشان ڈویژن سے رپورٹ طلب کی ہے۔
پولیس دونوں مقدمات میں مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے اور مشتبہ افراد کی گرفتاری و قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔  وفاقی وزیر انسانی حقوق نے دونوں صوبوں کے آئی جیز سے تحقیقاتی پیش رفت پر جامع رپورٹ مانگ لی ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں کوئی تاخیر نہ ہو۔�

متعلقہ پوسٹ