اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز: مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

iran 4926 d


اسرائیل کے معروف اخبار یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک متنازع کالم میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت اپنے مقروض نوجوانوں کے تمام قرضے اس شرط پر معاف کر دے کہ وہ ایران پر زمینی حملے کیلئے فوج میں بھرتی ہوجائیں۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ صرف ہوائی بمباری سے یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ ملک پر قبضے یا کنٹرول کیلئے 15 لاکھ تک امریکی فوجیوں کو متحرک کرنا پڑے گا۔
یہ تجویز کینیڈین مسلح افواج کے ایک سابق اہلکار اے جے جاف نے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہینوں کی شدید امریکی بمباری کے باوجود ایران کی فوجی صلاحیت تباہ نہیں ہو سکی اور کامیاب زمینی مہم کیلئے موجودہ امریکی فوجیوں کی تعداد ناکافی ہے — فی الوقت امریکی فوج میں صرف تقریباً 4 لاکھ 52 ہزار فعال اہلکار ہیں، جبکہ ایران کے 31 صوبائی کمانڈز اور مضبوط دفاعی نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے کہیں زیادہ نفری درکار ہوگی۔
اس قلت کو پورا کرنے کیلئے جاف تجویز دیتے ہیں کہ جبری بھرتی کے بجائے قرض معافی کا پروگرام شروع کیا جائے۔ ان کے مطابق 18 سے 34 سال کی عمر کے اوسط امریکی نوجوان پر اسٹوڈنٹ لون، کریڈٹ کارڈ، گاڑی اور ذاتی قرضوں کی مد میں 40 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک کا بوجھ ہے۔ اگر حکومت 24 سے 36 ماہ کی فوجی خدمت کے بدلے تمام قرضے معاف کرے اور جی آئی بل کی سہولیات میں توسیع کرے، تو لاکھوں نوجوان خودبخود بھرتی ہونے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔ امریکہ میں اس وقت کل گھریلو قرضہ 18.8 ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے اور 77 فیصد امریکی کسی نہ کسی قسم کے مقروض ہیں۔
کالم نگار نے دوسری جنگ عظیم کے جی آئی بل، ویتنام جنگ کے دور کی کالج چھوٹ اور 9/11 کے بعد نقد بونس اور شہریت کی پیشکش جیسی مثالوں کا حوالہ دیا۔ وہ اسے اخلاقی طور پر ”کچھ ناگوار” تسلیم کرتے ہوئے بھی پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ”سب سے مؤثر طریقہ” قرار دیتے ہیں۔
اس کالم پر امریکہ میں شدید تنقید ہو رہی ہے۔ ماہرین نے اسے یکسر غلط اور ناقابلِ عمل قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے کہا کہ اسرائیل ”آخری امریکی کی موجودگی تک” ایران سے جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ”دی بلیز” نے اسے مقروض نوجوانوں کے معاشی استحصال کی کوشش قرار دیا، جبکہ ”میزس انسٹی ٹیوٹ” نے لکھا کہ یہ دراصل امریکی شہریوں کو اسرائیل کیلئے ایک اور جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کا مطالبہ ہے۔

متعلقہ پوسٹ