جناح ہسپتال کراچی میں کینسر کے مریضوں کے لیے اے آئی اسسٹنٹ متعارف

398257 1113065


جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ’ہامی‘ نامی اسسٹنٹ متعارف کرایا گیا ہے۔

جے پی ایم سی میں ریڈی ایشن آنکولوجی کے پروفیسر ایمیریٹس ڈاکٹر طارق محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت سندھ اور پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے جے پی ایم سی میں کینسر کے مریضوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینا ضروری ہو گیا ہے اور اسی سلسلے میں ’ہامی‘ نامی اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرایا گیا ہے، جسے بوسٹن اے آئی کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر طارق محمود کے مطابق ’ہامی‘ مریض کی رجسٹریشن کے مرحلے ہی سے اس کے ساتھ کام کرے گا اور اس سے بیماری، سابقہ طبی معلومات اور علاج سے متعلق ضروری تفصیلات حاصل کرے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ مریض ’ہامی‘ سے اپنے مرض اور علاج سے متعلق سوالات بھی کر سکیں گے، جبکہ اے آئی اسسٹنٹ مریض کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور حاصل کردہ معلومات کی سمری تیار کرکے کنسلٹنٹ ڈاکٹر کو فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈاکٹر کے پاس ہر مریض کو دینے کے لیے محدود وقت ہوتا ہے اور عموماً ایک ڈاکٹر کسی مریض کو 10 سے 20 منٹ دے پاتا ہے جبکہ اے آئی اسسٹنٹ مریض کو اپنی سہولت کے مطابق زیادہ وقت دے کر اس کے سوالات سن سکتا ہے اور ضروری معلومات حاصل کرسکتا ہے۔‘

ڈاکٹر طارق محمود کے مطابق ’ہامی‘ کی جانب سے تیار کی جانے والی سمری سے کنسلٹنٹ ڈاکٹر کے پاس مریض کی تفصیلی معلومات پہلے سے موجود ہوں گی، جس سے وہ کم وقت میں مریض کی صورتحال سمجھ کر علاج کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’ہامی‘ کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ مریض کی معلومات بہتر اور تیز انداز میں ڈاکٹروں تک پہنچا کر علاج کے عمل میں معاونت کرنا ہے۔

مریضوں کی معلومات محفوظ رکھنے کا دعویٰ

ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ ’ہامی‘ کے ذریعے حاصل ہونے والی مریضوں کی معلومات کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق مریضوں کی معلومات متعلقہ محکمے کے محفوظ سسٹم میں رہیں گی اور کسی غیر متعلقہ شخص کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

جے پی ایم سی میں سائبر نائف کی سہولت

جے پی ایم سی میں پہلا سائبر نائف یونٹ 2012 میں نصب کیا گیا تھا، دوسرا یونٹ 2018 میں جبکہ تیسرا اور تازہ ترین یونٹ 2024 میں حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کیا گیا۔

سائبر نائف ایک روبوٹک ریڈی ایشن سسٹم ہے جس کے ذریعے دماغ، سر و گردن، ریڑھ کی ہڈی، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ سمیت بعض اقسام کے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے۔ بعض غیر سرطانی بیماریوں کے علاج میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے اب تک جے پی ایم سی میں سائبر نائف کے ذریعے 25,185 ریڈیوسرجری سیشنز کیے جاچکے ہیں۔

ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل روبوٹک سائبر نائف کے ذریعے ایک مریض کے علاج میں تقریباً 150 منٹ لگتے تھے اور روزانہ تقریباً چار مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔

ٹوموتھراپی کے 52 ہزار سے زائد سیشن

جے پی ایم سی انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ ٹوموتھراپی ٹیکنالوجی اسی مرکز میں متعارف کرائی گئی تھی۔

یہ سہولت 2020 میں شروع ہوئی، جبکہ دوسرا یونٹ 2024 میں نصب کیا گیا۔ حکام کے مطابق مزید دو ٹوموتھراپی یونٹس بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔

ٹوموتھراپی مشین 360 ڈگری کے زاویے سے ریڈی ایشن فراہم کرتی ہے، جبکہ اس میں موجود سی ٹی اسکینر کے ذریعے علاج سے قبل جسم کے متعلقہ حصے کا اسکین کیا جاتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے اب تک ٹوموتھراپی کے ذریعے 52,639 ریڈیوتھراپی سیشنز کیے جاچکے ہیں۔

جے پی ایم سی میں ’ایکوائنکس‘ کے ذریعے بھی ریڈیوتھراپی کی سہولت موجود ہے اور 2018 سے اب تک اس کے ذریعے 105,221 سیشنز کیے گئے ہیں۔

بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے نئی سہولت

جے پی ایم سی میں ’بلقیس و عبدالستار ایدھی بریسٹ ریڈی ایشن بے‘ کے نام سے ایک نئی سہولت بھی قائم کی جا رہی ہے، جس کے ستمبر 2026 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔

دستاویز کے مطابق اس مرکز میں روزانہ 160 بریسٹ کینسر کے مریضوں کا ٹوموتھراپی کے ذریعے مفت علاج کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

ستمبر 2026 کے اختتام تک جے پی ایم سی کے ریڈی ایشن آنکولوجی شعبے میں روزانہ 400 سے زائد مریضوں کو ریڈی ایشن فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف ہے۔

ڈاکٹر طارق محمود کے مطابق جدید ریڈی ایشن ٹیکنالوجی، مفت علاج اور اے آئی اسسٹنٹ کا استعمال جے پی ایم سی میں کینسر کے مریضوں کو زیادہ مؤثر اور تیز طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ