امریکی حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا: اقوام متحدہ نے شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی


اسلام آباد/نیویارک — حالیہ امریکی فضائی حملوں میں ایران کے متعدد پلوں، شاہراہوں، سرنگوں اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے خاص طور پر جنوبی صوبہ ہرمزگان (بندر عباس اور اس کے آس پاس) میں کیے گئے، جہاں کم از کم چھ پلوں سمیت اہم مواصلاتی ڈھانچے متاثر ہوئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ان حملوں میں پلوں، سرنگوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کچھ شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں، جن کی تعداد اب تک درجنوں تک بتائی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابل قبول ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ کیا اور تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
"شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔” — اقوام متحدہ کے مطابق، پانی، بجلی اور نقل و حمل کی تنصیبات پر حملے انسانی بحران پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر شدید گرمی اور خشک سالی کے موسم میں۔
یہ حملے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے دوران ہوئے ہیں، جہاں امریکہ ایران پر الزام لگاتا ہے کہ وہ بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اگر ایران مذاکرات نہ کرے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو "جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کو خط لکھ کر امریکی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

متعلقہ پوسٹ